منصوبہ بندی کے لیے اہم معلومات پر ریاستی حکومت کے پاس ضلع واری ڈیٹا نہیں ہے ، کئی پراجکٹس متاثر

   

حیدرآباد ۔ 2 ۔ جنوری : ( سیاست نیوز) : حکومت تلنگانہ جب کہ نیشنل پاپولیشن رجسٹر ( این پی آر ) ایکسرسائز کے لیے تیاری کررہی ہے لیکن ریاستی حکومت کے پاس مختلف معلومات پر ایک مناسب ضلع واری ڈیٹا نہیں ہے جو پالیسیز بنانے اور حکومت کی مختلف اسکیمات پر عمل درآمد کرنے کے لیے کلیدی اہمیت کا حامل ہوتا ہے ۔ مثال کے طور پر اگر حکومت کسی ایک مخصوص ضلع میں زراعت یا آپباشی پر توجہ مرکوز کرنا چاہے تو کارکرد زمینات اور زمین کا سائز ، آبپاشی کے تحت علاقہ اور دوسری تفصیلات ضروری ہیں ، ڈیٹا کی عدم دستیابی سے پلاننگ متاثر ہوگی ۔ ضلع واری ڈیٹا کے نہ ہونے سے حکومت نے گذشتہ دو سال میں اعداد شمار رپورٹ پیش نہیں کی ۔ ڈائرکٹوریٹ آف اکنامکس اینڈ اسٹائسٹکس کی جانب سے 2017 میں شائع کردہ گذشتہ رپورٹ بعض زمروں کے لیے 2015 پر مبنی تھی اور دیگر زمروں کے لیے 2016 کے انفارمیشن پر منحصر تھی ۔ رابطہ پر ڈائرکٹر آف اکنامکس اینڈ اسٹائسٹکس ڈپارٹمنٹ اے سدرشن ریڈی نے کہا کہ گذشتہ دو سال سے رپورٹس شائع نہیں ہوئیں ۔ 2017 کی رپورٹ جزوی 2015 اور جزوی 2016 کے انفارمیشن پر مبنی ہے کیوںکہ نئے تشکیل دئیے گئے اضلاع سے ڈیٹا دستیاب نہیں ہے ۔ ڈائرکٹر نے کہا کہ ’ ہم جلد ہی نئی رپورٹ پیش کریں گے ‘ ۔ عہدیداروں نے کہا کہ ہر ضلع سے متعلق انفارمیشن جیسے ڈیموگرافکس اور آبادی ، صحت ، موسمی تبدیلی ، مویشی ، زراعت ، تعلیم ، صحت ، جنگلات ، ٹرانسپورٹ ، مائننگ ، توانائی ، بینکنگ ، کرائم اینڈ پولیس ، انڈسٹریز سیاحت اور جوڈیشیل ڈیٹا کا احاطہ کیا جاتا ہے ۔ ایک سینئیر پلاننگ آفیسر نے کہا کہ ’ محکمہ مال نے نئے اصلاع ، منڈلس اور ریونیو ڈیویژنس کی سرحدات فراہم کرنے کے لیے ایک سال سے زیادہ کا وقت لیا ۔ حکومت نے نہ صرف نئے اضلاع بنائے ہیں بلکہ زائد از 100 نئے منڈلس بنائے ہیں ( اب 599 منڈلس ہیں ) ۔ اسی طرح ریونیو ڈیویژنس بھی بنائے گئے ۔ چونکہ گذشتہ برسوں میں مواضعات کا ٹرانسفر ہوا ، ریکارڈس اور اسٹاف کی کمی اور سلسلہ وار انتخابات کے باعث رپورٹس کی تکمیل میں تاخیر ہوئی ‘ ۔ ایسے الزامات ہیں کہ ڈسٹرکٹ کلکٹرس نے حکومت کو ڈیٹا روانہ کرنے میں دلچسپی نہیں لی ۔۔