منوگوڑ میں آج رائے دہی، سخت ترین حفاظتی انتظامات

,

   

298 پولنگ اسٹیشنوں پر صبح 7 تاشام 6 بجے پولنگ،غیر مقامی افراد پر کڑی نظر، 6 نومبر کو ووٹوں کی گنتی

حیدرآباد۔/2نومبر، ( سیاست نیوز) الیکشن کمیشن نے منوگوڑ اسمبلی حلقہ کے ضمنی چناؤ کیلئے کل 3 نومبر کو رائے دہی کی تمام تیاریاں مکمل کرلی ہیں۔ الیکشن اسٹاف کو آج صبح سے الیکشن میٹریل کی اجرائی کا آغاز ہوا اور ہر پولنگ اسٹیشن پر الیکشن اسٹاف رات میں پہنچ جائے گا۔ ڈسٹری بیوشن مرکز چنڈور میں آج صبح سے الیکشن اسٹاف نے الیکٹرانک ووٹنگ مشین اور دیگر آلات کو حاصل کیا۔ اس موقع پر پولیس کی نگرانی میں الیکشن اسٹاف کی متعلقہ پولنگ اسٹیشنوں تک منتقلی کا انتظام کیا گیا اور آج سے ہی پولنگ اسٹیشنوں کے اطراف سیکوریٹی انتظامات سخت کردیئے گئے۔ الیکشن کمیشن نے رائے دہی کا وقت صبح 7 بجے سے شام 6 بجے مقرر کیا ہے تاہم اگر رائے دہندے 6 بجے سے قبل پولنگ بوتھ میں موجود ہوں تو انہیں مقررہ وقت کے بعد بھی حق رائے دہی کے استعمال کا موقع دیا جائے گا۔ حلقہ میں ووٹرس کی جملہ تعداد 241855 ہے جن میں مرد 121720 جبکہ خواتین 120128 ہیں۔ ووٹوں کی گنتی 6 نومبر کو ہوگی اور دوپہر تک نتیجہ کا اعلان کردیا جائے گا۔ ضمنی چناؤ تین اہم سیاسی پارٹیوں کیلئے وقار کا مسئلہ بن چکا ہے جن میں ٹی آر ایس، کانگریس اور بی جے پی شامل ہیں۔ کومٹ ریڈی راجگوپال ریڈی کے اسمبلی کی رکنیت سے استعفی کے باعث ضمنی چناؤ ہورہا ہے۔ انہوں نے کانگریس چھوڑ کر بی جے پی میں شمولیت اختیار کرلی۔ منوگوڑ کے رائے دہندوں کی تعداد منڈل واری سطح پر حسب ذیل ہے: چوٹ اوپل (59433) ، نارائن پورم (36430)، منوگوڑ (35780)، چنڈور (33509) ، گٹ اوپل (14525)، نامپلی (33819) جبکہ مری گوڑم میں رائے دہندوں کی جملہ تعداد 28309 ہے۔ اسی دوران چیف الیکٹورل آفیسر وکاس راج نے عہدیداروں کیساتھ الیکشن انتظامات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے حلقہ میں انتخابی ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل آوری اور غیر مقامی افراد کی موجودگی پر کارروائی کی ہدایت دی۔ انہوں نے رائے دہندوں میں رقومات کی تقسیم کو روکنے کیلئے خصوصی ٹیموں کو چوکس کردیا ہے۔ سارے حلقہ میں 100 چیکنگ پوائنٹس قائم کئے گئے اور رائے دہی کے دن دیگر علاقوں سے آنے والے افراد پر کڑی نظر رکھی جائے گی۔ رائے دہی کیلئے 298 پولنگ اسٹیشن قائم کئے گئے ہیں جبکہ پولنگ اسٹاف کی تعداد 1492 ہے جن میں 300 اسٹاف کو ہنگامی صورتحال کیلئے تیار رکھا گیا ہے۔ ہر پولنگ اسٹیشن میں 4 عہدیداروں پر مشتمل عملہ رہے گا۔ اے وی ایم کی موثر کارکردگی کیلئے ماہرین کی ٹیموں کو تیار رکھا گیا ہے اور جہاں کہیں بھی مشین سے متعلق شکایت موصول ہوگی یہ ٹیمیں فوری پہنچ کر درستگی کا کام کریں گی۔ پولیس کے سخت ترین انتظامات کے سبب کئی علاقوں کو پولیس چھاؤنی میں تبدیل ہوگئے ہیں۔ ر