تلنگانہ کے اسمبلی حلقہ منوگوڑ کا انتخابی نتیجہ آچکا ہے ۔ تلنگانہ راشٹرا سمیتی نے انتہائی سخت مقابلہ کے بعد بی جے پی کو دس ہزار سے زائد ووٹوں کی اکثریت سے شکست دیتے ہوئے کامیابی حاصل کرلی ہے ۔ کانگریس کو حسب توقع تیسرا مقام ہی حاصل ہوسکا ہے ۔ جس طرح سے انتخابی مہم میں کہا جا رہا تھا کہ اصل مقابلہ ٹی آر ایس اور بی جے پی میں ہے نتائج بھی اسی طرح کے برآمد ہوئے ہیں۔ بی جے پی کے امیدوار کے راجگوپال ریڈی نے ٹی آر ایس امیدوار کے پربھاکر ریڈی کو سخت مقابلہ دیا تاہم وہ کامیابی حاصل نہیں کرسکے ۔ حالانکہ وہ کانگریس ٹکٹ پر اسی حلقہ سے منتخب ہوئے تھے تاہم وہ اپنی نشست کو برقرار نہیں رکھ پائے ۔ اس نتیجہ سے تاہم یہ بھی واضح ہوگیا ہے کہ ایک حلقہ تک محدود الیکشن میں بی جے پی اپنی ساری طاقت جھونکتے ہوئے ٹی آر ایس کیلئے ایک چیلنج بن رہی ہے ۔ تاہم ساری ریاست میں جب انتخابات ہونگے تو صورتحال مختلف ہوسکتی ہے اور کوئی بھی جماعت محض ایک حلقہ تک اپنی ساری طاقت جھونکنے کے موقف میں نہیں ہوسکتی ۔ یہ صورتحال ایسی ہے جس میں کانگریس کو اپنی کارکردگی کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے ۔ حالانکہ ٹی آر ایس اور بی جے پی نے اپنی پوری طاقت اس حلقہ میں جھونک دی تھی تاہم کانگریس بھی اس معاملے میں پیچھے نہیں رہی تھی ۔ اپنے طور پر کانگریس نے بھی حتی المقدور کوشش کی تھی اور اس کے بھی ریاستی قائدین نے مہم میں حصہ لیا تھا ۔ اس کے باوجود کانگریس کی امیدوار ٹی آر ایس اور بی جے پی کے قریب بھی نہیں پہونچ پائیں۔ ٹی آر ایس کو جس طرح سے کامیابی ملی ہے وہ بھی ٹی آر ایس کیلئے لمحہ فکر کہی جاسکتی ہے ۔ حالانکہ کانگریس کی نشست کو ٹی آر ایس نے چھین لیا ہے لیکن بی جے پی نے اسے جس طرح کا مقابلہ دیا تھا اس سے پتہ چلتا ہے کہ بی جے پی ضمنی اانتخابات میں ایک آدھ حلقہ تک اپنی طاقت جھونکتے ہوئے ٹی آر ایس کو چیلنج دے رہی ہے ۔ اب جبکہ نتیجہ برآمد ہوچکا ہے اس کے بعد ٹی آر ایس ہو یا بی جے پی ہو یا پھر کانگریس ہو سبھی کو اپنی اپنی حکمت عملی کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے اور مستقبل کے منصوبوں کو قطعیت دی جانی چاہئے ۔
منوگوڑ کی نشست کانگریس کی تھی اور ضمنی انتخاب میں کانگریس تیسرے نمبر پر چلی گئی ہے اور اس میں بھی ووٹوں کافرق بہت زیادہ ہے ۔ کانگریس کیلئے ضروری ہے کہ وہ اپنے سیاسی مستقبل کی فکر کرے ۔ عوام تک رسائی حاصل کرنے کے پروگرامس بنائے جائیں۔ عوام میں کانگریس کی جو امیج ہے اس کو بہتر بنایا جائے ۔ عوامی تائید جو کانگریس کو مل سکتی ہے اس کو بحال کرنے اور اس کو ووٹوں میں بدلنے کی حکمت عملی بنائی جانی چاہئے ۔ ٹی آر ایس کیلئے بھی ضروری ہے کہ وہ ریاست کے ووٹرس کی نبض اور ان کے موڈ کو سمجھے ۔ اس کے مطابق اپنی پالیسیاں اور پروگرامس کو قطعیت دی جائے تاکہ بی جے پی کے چیلنج کا جواب دیا جاسکے ۔ یہ تاثر عام ہے کہ ایک حلقہ میںطاقت جھونک کر چیلنج تو دیا جاسکتا ہے لیکن ساری ریاست میں جب انتخابات ہونگے تو صورتحال مختلف ہوسکتی ہے ۔ تاہم ایک حلقہ کے ضمنی انتخاب کے عوامی موڈ کے اثرات ساری ریاست پر بھی مرتب ہوسکتے ہیں اور اس کو سمجھتے ہوئے حکمت عملی بنانے کی ٹی آر ایس اور کانگریس دونوں کو ضرورت ہے ۔ کانگریس کو ریاست کی سیاست میں اپنا وجود برقرار رکھنا ہے اور کچھ کھوئی ہوئی عوامی تائید حاصل کرنی ہے تو اس کیلئے سبھی قائدین میں اتحادپیدا کرتے ہوئے ایک جامع منصوبے اور حکمت عملی کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہوگی ورنہ کانگریس کا ریاست میں احیاء کرنا مشکل سے مشکل ہوتا جائیگا ۔ یہ ایسی صورتحال ہوگی جس کے لئے کانگریس کے سبھی قائدین ذمہ دار ہوسکتے ہیں۔
منوگوڑ کے ضمنی انتخابی نتائج سے یہ بھی واضح ہوچکا ہے کہ پیسے اور افرادی قوت کے بل پر انتخابات جیتے جا رہے ہیں۔ تاہم اس کو عذر بناتے ہوئے دوسری جماعتیں اپنی تیاریوں میں تن آسانی سے کام نہیں لے سکتی ۔ اب ٹی آر ایس اور بی جے پی کی جانب سے مسلسل مہم چلائی جائے گی کہ ریاست میں اصل مقابلہ ٹی آر ایس اور بی جے پی ہی میں ہے ۔ اب تک بھی یہی مہم چلائی جا رہی تھی اور کانگریس اس کا جواب دینے میں کامیاب نہیں ہوسکی ہے ۔ اگر یہی صورتحال رہی تو آئندہ اسمبلی انتخابات میں بھی یہی تاثر عام ہوتا جائیگا اور ریاست کے رائے دہندے اسے قبول کرنے سے گریز نہیںکرینگے ۔ کانگریس کو اس کا نوٹ لینا چاہئے ۔
