نوجوانوں کو لبھانے ٹی آر ایس ۔ کانگریس ۔ بی جے پی کی ہر ممکنہ کوشش ، اہم قائدین کی خدمات سے استفادہ
حیدرآباد ۔ 24 ۔ اکٹوبر : ( سیاست نیوز) : اسمبلی حلقہ منوگوڑ کے ضمنی انتخاب میں اندرون 30 سال عمر والے رہنے والے رائے دہندوں کا فیصلہ کن موقف ہے ۔ ساتھ ہی 30 تا 39 عمر کے رائے دہندوں کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔ اندرون 30 سال عمر کے رائے دہندوں کی اکثریت پائی جاتی ہے ۔ فہرست رائے دہندوں میں نئے ناموں کا اندراج کرنے والے 18 تا 19 سال عمر کے رائے دہندوں کے جملہ 8432 ووٹ شامل ہیں ۔ 20 تا 29 سال عمر والے 51,131 رائے دہندے ہیں یعنی اندرون 30 سال رائے دہندوں کے 59,563 ووٹ ہیں ۔ تینوں اہم جماعتوں کانگریس ، ٹی آر ایس اور بی جے پی پہلے ایک لاکھ رائے دہندوں کو راغب کرنے کی حکمت عملی تیار کررہی تھی تاہم فہرست رائے دہندگان میں نئے ناموں کی شمولیت سے 1.25 لاکھ رائے دہندوں کو راغب کرنے کے لیے انتخابی مہم چلا رہے ہیں ۔ تینوں جماعتوں کی جانب سے بڑے پیمانے کی انتخابی مہم چلائی جارہی ہے جس سے اندازہ لگایا جارہا ہے کہ ضمنی انتخاب کی رائے دہی کا تناسب 90 فیصد سے زیادہ بڑھ جائے گا ۔ ہر پارٹی نوجوان رائے دہندوں کو زیادہ سے زیادہ لبھانے پر زیادہ توجہ دے رہی ہے ۔ بالخصوص دیہی علاقوں میں رہنے والے نوجوان رائے دہندوں کی تائید حاصل کرنے کے لیے اپنے اپنے پارٹی کے اہم قائدین کی خدمات سے استفادہ کیا جارہا ہے اور ان قائدین کو نوجوان رائے دہندوں کو خوش کرنے کے لیے 5 تا 40 لاکھ روپئے ادا کرنے کی تشہیر ہورہی ہے ۔ جاریہ سال یکم اگست سے ضمنی انتخاب کے لیے نوٹیفیکیشن کی اجرائی 4 اکٹوبر تک فہرست رائے دہندگان میں نئے ووٹوں کے اندراج فہرست رائے دہندگان پر نظر ثانی کے لیے 25,831 درخواستیں داخل کی گئی ہیں ان میں 15,134 ووٹوں پر نظر ثانی کی اجازت دی گئی ہے ۔ ماباقی 10,696 درخواستوں کو مسترد کردیا گیا ہے ۔۔ ن