منو گوڑ ضمنی انتخابات پر رکن اسمبلی شکیل عامر کی ہمت و عزم کی مثال

   


ٹی آر ایس امیدوار کی کامیابی پر چیف منسٹر کے سی آر کی شاندار کارکردگی کا ثبوت
حیدرآباد 6 نومبر (سیاست نیوز) منو گوڑ کے ضمنی انتخاب کا نتیجہ اپنی جگہ ٹی آر ایس کے واحد مسلم رکن اسمبلی بودھن مسٹر شکیل عامر کے عزم اور ہمت کی مثال آج بودھن کے عوام میں دی جارہی ہے۔ یہ بات تمام سیاسی اور سماجی لوگ اچھی طرح جانتے ہیں کہ منو گوڑ کے انتخابات میں ٹی آر ایس کی کامیابی کو لے کر شکیل عامر نے بہت بڑے حوصلہ کا اقدام کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر منو گوڑ الیکشن ٹی آر ایس ہار رہی ہے تو وہ رکن اسمبلی کی حیثیت سے مستعفی ہوجائیں گے۔ نتائج کے اعلان کے ساتھ ہی سید جلیل ازہر نے شکیل عامر سے فون پر بات کی تو اُنھوں نے سب سے پہلے کہاکہ مجھے اللہ کی ذات پر پورا بھروسہ ہے کہ چندرشیکھر راؤ وزیر اعلیٰ کی شاندار کارکردگی کی بنیاد پر رائے دہندے ٹی آر ایس امیدوار کو شاندار کامیابی سے ہمکنار کریں گے کیوں کہ سارا ملک جانتا ہے کہ ملک کی معیشت کو ٹھکانے لگاکر ریاستوں پر دولت اور طاقت کے ذریعہ حکمرانی کا خواب دیکھنے والی بی جے پی اب بھی سنبھل جائے۔ سرمایہ داروں کے عروج میں تعاون کرکے غریبوں کے ووٹ حاصل نہیں کئے جاسکتے۔ نفرت انگیز لہجوں سے ظاہر ہوہی جاتا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے رابطوں سے بیزار ہیں۔ لوگ تاریخ گواہ ہے سیاست کا تاناشاہی مزاج جب پروان چڑھتا ہے تو کوئی بچ نہیں سکتا۔ اقتدار کے نشہ میں مرکزی حکومت سارے ملک کے ماحول کو تباہ و برباد کررہی ہے اسی لئے وزیر اعلیٰ چندرشیکھر راؤ نے قومی سیاست میں اپنا قدم رکھا ہے۔ انھیں اندازہ ہے کہ پرندہ جب اڑنے کی ٹھان لے تو ہوا کو راستہ دینا ہی پڑتا ہے۔ شکیل عامر کا سیاسی قد بودھن کے عوام میں اور بھی اونچا ہوگیا۔ ان کے اعلان کے بعد اپوزیشن جماعتوں میں یہ تجسس تھا کہ منو گوڑ میں بی جے پی جیت جاتی ہے تو بودھن میں بھی ضمنی انتخاب ہوگا۔ آج نتیجہ کے بعد شکیل عامر کی رہائش گاہ کے روبرو جشن کا ماحول تھا۔ زبردست آتشبازی کی گئی اور ان کے اس عزم پر مبارکباد بھی پیش کی گئی۔ اب دیکھنا ہے کہ راج گوپال ریڈی کیا سیاسی سنسیاس لے لیں گے؟