منکی پاکس پر مرکزی حکومت سے رہنمایانہ خطوط کی اجرائی کا امکان

   

عالمی تشویش والی بیماری کی فہرست میں شامل ، عالمی ادارہ صحت کی توجہ کے بعد مرکزی حکومت کی گہری نظر
حیدرآباد۔25جولائی (سیاست نیوز) ملک میں منکی پاکس کے مریضوں کی تعداد میں ہونے والے اضافہ پر مرکزی محکمہ صحت کی جانب سے گہری نظررکھنے کے علاوہ ریاستی حکومتوں کے لئے رہنمایانہ خطوط کی اجرائی عمل میں لانے کے اقدامات کئے جانے لگے ہیں اور کہا جا رہاہے کہ عالمی ادارہ صحت کی جانب سے منکی پاکس کے مریضوں کی تعداد میں ہونے والے اضافہ کے ساتھ ہی اسے عالمی تشویش والی بیماری کی فہرست میں شامل کرنے اور ہیلت ایمرجنسی کے اعلان کے ساتھ ہی گذشتہ یوم دہلی میں مرکزی وزارت صحت کے عہدیدارو ںکا ایک اجلاس منعقد کیا گیا ہے اور اجلاس کے دوران ریاستی حکومتو ں کی جانب سے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات حاصل کرتے ہوئے جن ریاستوں میں منکی پاکس کے مریض پائے جانے لگے ہیں اور جن ریاستوں میں مشتبہ مریض پائے گئے ہیں ان کے لئے علحدہ رہنمایانہ خطوط کی تیاری کی ہدایت دی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق اجلاس کے دوران کیرالہ میں پائے جانے والے 3اور دہلی میں پائے جانے والے ایک مصدقہ مریض کے علاوہ تلنگانہ کے مشتبہ مریض کے متعلق بھی تفصیلات حاصل کی گئی اور ان ریاستو ںمیں قرنطینہ کی سہولتوں کا جائزہ لیا گیا۔ محکمہ صحت کے عہدیدارو ںکے مطابق مرکزی حکومت کی جانب سے ملک میں منکی پاکس کے مریضوں کی نشاندہی کی صورت میں اختیار کی جانے والی حکمت عملی کا جائزہ لیا گیا اور اجلاس میں موجود عہدیداروں کو ملک کی بیشتر ریاستوں کی نگرانی کی ذمہ داری تفویض کی گئی ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ کورونا وائرس جیسی صورتحال سے نمٹنے کے بعد منکی پاکس جو کہ تیزی سے پھیلنے والی بیماری نہیں ہے اس پر قابو پانے کے اقدامات بہ آسانی کئے جاسکتے ہیں لیکن اس بیماری کے متعلق شہریوں کو شعور اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔ مرکزی حکومت کے ڈائریکٹر جنرل ہیلت سروس کے اجلاس میں اس بات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا ہے کہ ان 4مصدقہ مریضوں میں مماثلت کیا ہے کیونکہ ان تمام مریضوں میں جو یکسانیت پائی گئی ہے ان میں سب سے اہم چاروں مریضوں کے بیرونی دورہ ہے اور تمام مریض بیرونی دورہ سے واپس ہوئے 15 تا 20یوم ہوئے ہیں اس کے علاوہ جن مریضوں کی مشتبہ منکی پاکس کے مریضوں کی حیثیت سے نشاندہی کی گئی تھی ان مریضوں کے بھی بیرونی سفر کے بعد ہی ان میں علامات ظاہر ہونے کی بنیاد پر ان کے معائنے کئے گئے جو کہ منفی ثابت ہونے کی صورت میں ان کا روایتی علاج کیا گیا۔م