منکی پاکس کا خطرہ بڑھ گیا ، ڈبلیو ایچ او کا انتباہ

   

واشنگٹن: ٹراپیکل وائرس منکی پوکس ایک درجن ممالک میں پھیلنے کے بعد عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے آج اس کے خطرے کے زمرے کو ’کم‘ سینکال کر ’اعتدال‘ میں ڈال دیا ہے۔ڈیلی میل نے ڈبلیو ایچ او کے حوالے سے کہا کہ خطرے کی سطح میں اضافے کی وجہ اس کے بڑھتے ہوئے کیسز ہیں، جو تشویشناک صورتحال تک پہنچ چکے ہیں۔ اس وائرس کے کیسز ان جگہوں سے بھی آرہے ہیں جو افریقہ سے کسی بھی طرح جڑے نہیں ہیں جہاں یہ وائرس وبا کی شکل اختیار کرچکا ہے۔اس وائرس کا پہلا کیس مئی کے شروع میں سامنے آیا تھا اور اب تک دو درجن ممالک میں پھیل چکا ہے۔ یہ تشویش بھی بڑھ رہی ہے کہ اگر یہ وائرس جنگلی جانوروں میں پھیل گیا تو پھر اس کا خاتمہ کبھی نہیں ہو سکے گا۔ اس کے ساتھ منکی پوکس کے میوٹیشن کا خطرہ بھی بڑھ جائے گا۔ڈبلیو ایچ او نے کہا کہ اگر یہ وائرس کم قوت مدافعت کے حامل افراد، بچوں اور جلد بیمار ہونے والے افراد کے گروپ کو متاثر کرتا ہے تو صحت عامہ کے لیے خطرہ بڑھ جائے گا۔ڈبلیو ایچ او نے کہا کہ منکی پوکس کے اچانک کیسز اور دور دراز کے معاملوں کی اطلاع ملنے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ انفیکشن انسانوں سے پھیلتا ہے۔ یہ جلد کے ساتھ رابطے یا متاثرہ شخص کے چھینٹوں سے پھیلتا ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے سربراہ نے کہا کہ منکی پوکس کے انفیکشن کے کیسز میں اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ متاثرہ مریض وائرس کا پتہ لگائے بغیر کئی ہفتوں یا اس سے زیادہ دن تک گھومتا رہتا ہے۔یہاں ’ہیومن اینیمل انفیکشن اینڈ رسک مانیٹرنگ گروپ‘ نے خبردار کیا ہے کہ جانوروں کو اس وائرس سے متاثر ہونے کا سب سے زیادہ خطرہ ہوتا ہے اور متاثرہ جانور اسے جنگلی جانوروں تک پھیلا سکتے ہیں جس سے اس کے وبائی شکل اختیار کرنے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے جس کا خاتمہ مشکل ہو جائے گا۔