نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف وائرولوجی سے رپورٹ کے بعد علاج کا فیصلہ
حیدرآباد30 ۔مئی (سیاست نیوز) ریاست میں پائے جانے والے منکی پاکس کے مشتبہ مریضوں کے خون کے نمونو ں کو توثیق کے لئے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف وائرولوجی ( پونے ) روانہ کیا جائے گا اور منکی پاکس کی توثیق کی صورت میں مریض سے رابطہ میں رہنے والوں کو قرنطینہ کرنے کے علاوہ مریض کو علاج کے لئے منتقل کیا جائے گا۔ ریاستی محکمہ صحت کے عہدیداروں نے بتایا کہ مرکزی حکومت کی جانب سے منکی پاکس کے سلسلہ میں جاری کئے جانے والے انتباہ کے بعد کئے جانے والے اقدامات کے دوران اس بات کا فیصلہ کیا گیا ہے کہ تلنگانہ میں اگر کوئی مریض منکی پاکس کے مشتبہ علامات کا شکار پایا جاتا ہے تو ایسی صورت میں اس کے نمونوں کو حاصل کرتے ہوئے NIV( پونے) روانہ کیا جائے گا اور معائنہ کی رپورٹ موصول ہونے کے بعد رپورٹ کے مطابق علاج و معالجہ کے اقدامات کئے جائیں گے۔ عہدیدارو ںنے بتایا کہ ماہرین طب سے مذاکرات کے بعد محکمہ اس نتیجہ پر پہنچاہے کہ منکی پاکس کے مرض سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے لیکن اس کے باوجود احتیاطی اقدامات ناگزیر ہے۔ عہدیدارو ںنے بتایا کہ حکومت تلنگانہ نے مرکزی حکومت کی جانب سے جاری کئے جانے والے انتباہ کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے منکی پاکس کے مریضوں کے لئے خصوصی سہولتوں کی فراہمی اور عوام میں شعور اجاگر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ منکی پاکس کے مریضوں کے متعلق ماہرین طب نے بتایا کہ مریضوں کو منکی پاکس کی صورت میں جو چیچک ہورہی ہے اس کے خاتمہ کے بعد نئی جلد واپس آنے لگی ہے لیکن اس کے باوجود بھی احتیاط کے ذریعہ اس مرض کو پھیلنے سے روکا جاسکتا ہے۔ اسی لئے شہریوں کو خارش‘ کھجلی ‘ چھالوں یا جلد پر دھبوں کی صورت میں فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع ہوتے ہوئے تشخیص کروانی چاہئے اورتشخیص کے دوران شبہ ہوتا ہے تو ایسی صورت میںان کے معائنہ کروائے جائیں۔ جن مریضوں کو منکی پاکس کی توثیق ہوگی انہیں علاج کی تکمیل تک قرنطینہ میں رکھا جائے گا جبکہ مریض سے رابطہ میں آنے والے قریبی افراد کے لئے 21 دن کے قرنطینہ کا لزوم عائد کیا گیا ہے تاکہ ان 21یوم میں اس بات کا پتہ لگایا جاسکے کہ مصدقہ مریض سے رابطہ میں آنے والا شخص منکی پاکس سے متاثر ہوا ہے یا نہیں !ڈاکٹرس کا کہنا ہے کہ جو افراد منکی پاکس کے مریض سے رابطہ میں آتے ہیں اگر وہ متاثر ہوتے ہیں تو انہیں 21یوم میں علامات ظاہر ہونے لگتے ہیں۔م