منیش سسوڈیا کی عدالتی تحویل میں 12 مئی تک توسیع

   

نئی دہلی : ایکسائز پالیسی کیس میں دہلی کے سابق نائب وزیر اعلی منیش سسودیا کی عدالتی حراست میں توسیع کر دی گئی ہے۔ دہلی کی راؤز ایونیو کورٹ نے سسودیا کی عدالتی تحویل میں 12 مئی تک توسیع کر دی ہے۔ اس سے پہلے 17 اپریل کو عدالت نے سسودیا کی تحویل میں 10 دن کی توسیع کرتے ہوئے 27 اپریل کردی تھی، جس کی مدت پوری ہونے کے بعد عدالت نے کیس کی سماعت کرتے ہوئے عدالتی تحویل میں مزید توسیع کردی ہے۔ ایکسائز پالیسی کیس میں عدالتی حراست میں رکھے گئے سسودیا نے اپنی بیوی کی طبیعت خراب ہونے اور بیٹے کے بیرون ملک ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے عدالت میں ضمانت کی درخواست بھی داخل کی تھی۔ منیش سسودیا کی اہلیہ ‘آٹو امیون ڈس آرڈر’ بیماری میں مبتلا ہیں اور انہیں یہاں کے ایک پرائیویٹ اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ 49 سالہ سیما سسودیا کو اندر پرستھ اپولو اسپتال کے نیورولوجی ڈیپارٹمنٹ میں داخل کرایا گیا ہے اور ان کی جانچ کی جا رہی ہے۔انہیں سال 2000 میں ایک سنگین آٹوامیون بیماری ملٹیپل اسکلیروسیس کی تشخیص ہوئی تھی۔
وہ گزشتہ 23 سالوں سے ایک نجی اسپتال میں زیر علاج ہیں۔ عام طور پر یہ مانا جاتا ہے کہ بیماری کے اثرات وقت اور دیگر عوامل جیسے جسمانی اور جذباتی تناؤ میں اضافہ کے ساتھ شدت اختیار کرتے ہیں۔منیش سسودیا کو دہلی کے مبینہ ایکسائز پالیسی معاملہ میں طویل پوچھ گچھ کے بعد 26 فروری کو سی بی آئی نے اپنی حراست میں لیا تھا۔ منیش اس وقت تہاڑ جیل میں بند ہیں۔ سسوڈیا پرالزام ہے کہ دہلی حکومت کی ایکسائز پالیسی میں شراب کے تاجروں کو لائسنس دینے کے لئے کچھ ڈیلروں کو فائدہ پہنچایا گیا، جنہوں نے مبینہ طور پر اس کیلئے رشوت دی تھی۔ یہ پالیسی بعد میں منسوخ کر دی گئی تھی۔