غیر معینہ بند کے دوران تشدد، 27سیکوریٹی اہلکار سمیت 67 زخمی‘آمد ورفت بحال کرنے کا فیصلہ ناکام
امپھال: منی پور میںکوکی۔زو کونسل کی طرف سے اعلان کردہ غیر معینہ مدت کے بند کی وجہ سے اتوار کو منی پور کے کوکی۔زو کے زیر اثر علاقوں میں معمولات زندگی بری طرح متاثر ہوئے۔ مرکز کے فیصلے سے ناراض کوکی طبقہ کا منی پور میںزبردست ہنگامہ اور احتجاج جاری ہے۔ تشدد مظاہرے کے دوران سلامتی دستہ کے 27 اہلکار سمیت 67 افراد زخمی ہوگئے۔ کے زیڈ سی کے کارکنوں اور رضاکاروں نے اتوار کو بڑی شاہراہوں پر ناکہ بندی کر دی، اور کانگ پوکپی، چوراچن میں بازار، دکانیں اور کاروباری ادارے بند رہے۔منی پور میں ہفتہ کو ایک بار پھر بڑے پیمانے پر تشدد پھوٹ پڑا۔ مرکزی حکومت کا ‘فری موومنٹ’ یعنی لوگوں کو بغیر رکاوٹ ایک سے دوسرے ضلع میں آمد ورفت کو پھر سے شروع کرنے کا فیصلہ پوری طرح سے ناکام ثابت ہو گیا اور پہلے دن ہی زبردست ہنگامہ برپا رہا۔ حکومت کے اس فیصلے کے خلاف کوکی طبقہ کے لوگوں نے زبردست ہنگامہ کیا جس کے نتیجے میں 27 سیکوریٹی اہلکار زخمی ہو گئے جن میں 2 کی حالت نازک ہے۔ اس جھڑپ میں 40 دیگر لوگوں کو بھی چوٹیں آئی ہیں ان میں 10 شدید طور پر زخمی ہیں۔میڈیاکے مطابق تشدد میں کل ایک شخص کے مارے جانے کی خبر ہے۔ منی پور میں پورے چار مہینے کے بعد اس طرح کا تشدد پھر شروع ہوا ہے۔ واضح ہو کہ ہفتہ کو مرکز کا ‘فری موومنٹ’ والا فیصلہ نافذ ہونے والا تھا۔ اسی کے احتجاج میں یہاں کے کانگپوکپی ضلع میں کوکی طبقہ کے لوگ سڑکوں پر اتر آئے اور بسوں کی آمد و رفت کو روکنے کی کوشش کرنے لگے۔کانگپوکپی ضلع ایک کوکی اکثریتی علاقہ ہے۔ یہاں مظاہرین نے ریاستی ٹرانسپورٹ کی ایک بس کو روکنے کی کوشش کی۔ یہ بس فری موومنٹ کو یقینی بنانے کے لیے انتظامیہ کی کوششوں کے تحت امپھال سے سیناپتی ضلع میں جا رہی تھی۔ مظاہرین نے یہاں بس پر پتھراؤ کیا۔ جب سلامتی دستوں نے انہیں منتشر کیا تو انہیں بھی پتھر بازی کا سامنا کرنا پڑا۔
اس کے بعد حالات بگڑتے چلے گئے۔منی پور پولیس نے اس سلسلے میں ایک بیان جاری کرکے بتایا کہ گامگی فائی میں بھیڑ نے بس پر پتھراؤ کرنا شروع کر دیا۔ سلامتی دستوں نے بھیڑ کو تتربتر کرنے کے لیے آنسو گیس اور کم سے کم طاقت کا استعمال کیا۔ ان لوگوں نے قومی شاہراہ کے ساتھ کئی جگہوں پر سڑک میں رکاوٹ پیدا کی تھیں۔ بڑی تعداد میں خواتین اور بچے بھی سڑکوں پر تھے۔ جو بس کی آمد و رفت کو روکنے کے لیے کوشش کر رہے تھے۔ احتجاج کے دوران مظاہرین کی طرف سے سلامتی دستوں پر گولی باری بھی کی گئی۔ جس کا پولیس اہلکاروں نے جواب دیا۔پولیس نے یہ بھی بتایا کہ امپھال سے تقریباً 37 کلومیٹر فاصلے پر کیتھیل مینبی میں جھڑپ کے دوران 30 سالہ لال گوتھانگ سنگسٹ نام کے ایک شخص کی گولی لگنے سے موت ہو گئی۔ پولیس نے بتایا کہ حکومت نے ہمیں یہ یقینی کرنے کی ہدایت دی کہ کھلے طور پر آمد ورفت میں رکاوٹ نہ پیدا کی جائے۔ منی پور کے ایک سینئر پولیس افسر نے میڈیا کو بتایا کہ ابھی بھی منی پور کے کچھ علاقوں میں مرکز کے اس فیصلے کے خلاف کشیدگی ہے لیکن فی الحال حالات قابو میں ہیں۔ اکثریتی علاقوں میں میتئی لوگوں کا تب تک احتجاج رہے گا جب تک کہ ان کے 8 نکاتی مطالبات تسلیم نہیں کر لیے جاتے۔