شرپسندوں نے امپھال میں کئی مکانات کو نذر آتش کر دیا،کرفیونافذ
نئی دہلی: منی پور میں 18 دنوں کے بعد پھر سے تشدد پھوٹ پڑا ہے ۔ شرپسندوں نے پیر کو راجدھانی امپھال کے نیو لیمبولن علاقے میں کچھ خالی مکانات کو نذر آتش کر دیا۔ تشدد کے پیش نظر حکومت نے علاقے میں فوج تعینات کردی۔ انتظامیہ نے ان علاقوں میں کرفیو بھی نافذ کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ 26 مئی تک انٹرنیٹ پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ مقامی بازار میں ایک جگہ کو لے کر میتی اور کوکی برادریوں کے درمیان جھگڑا ہوا۔ اس کے بعد شرپسندوں نے کچھ گھروں کو آگ لگا دی۔ حالات پر قابو پانے کیلئے نیم فوجی دستوں اور فوج کو طلب کرنا پڑا۔ریاست میں تشدد کی وجہ سے اب تک 10,000 سے زیادہ لوگ بے گھر ہو چکے ہیں۔ حکومت نے فسادیوں کو گولی مارنے کا حکم دیا ہے۔17 مئی کو سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے ریاستی حکومت کو ہدایت دی کہ وہ تشدد سے متاثرہ لوگوں کو فراہم کی جانے والی راحت، تحفظ، بازآبادکاری کے بارے میں تازہ اسٹیٹس رپورٹ داخل کرے۔ منی پور ٹرائبل فورم اور ہل ایریا کمیٹی نے سپریم کورٹ میں عرضیاں دائر کی ہیں۔ عدالت گرمیوں کی چھٹیاں ختم ہونے کے بعد جولائی میں ایک بار پھر اس معاملے کی سماعت کرے گی۔3 مئی سے تشدد جاری ہے ۔ منی پور میں 3 مئی کو چورا چند پور ضلع کے توربنگ علاقے سے تشددپھوٹ پڑا تھا۔ اس دن آل ٹرائبل اسٹوڈنٹس یونین نے قبائلی یکجہتی مارچ کا اعلان کیا تھا۔ 4 مئی کو چرچند پور میں چیف منسٹر این ویرن سنگھ کے پروگرام سے پہلے، مظاہرین نے توڑ پھوڑ کی تھی ۔
اور ان کے اسٹیج کو نذر آتش کیا۔ اس کے بعد ریاست کے 10 سے زیادہ اضلاع میں پرتشدد جھڑپیں ہوئیں۔پرتشدد واقعات میں اب تک 71 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ 230 سے ??زائد افراد زخمی اور 1700 گھر جل گئے۔ تشدد کے بعد سے یہاں انٹرنیٹ بند ہے۔ میتی کمیونٹی منی پور کی تقریباً 3.8 ملین آبادی کا نصف سے زیادہ حصہ ہے۔ وادی امپھال، جو کہ منی پور کے تقریباً 10% رقبے پر محیط ہے، پر میتی کمیونٹی کا غلبہ ہے۔ منی پور ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت کو ہدایت دی ہے کہ وہ میتی کمیونٹی کے مطالبے پر غور کرے اور 4 ماہ کے اندر مرکز کو سفارش بھیجے۔اس حکم کے بعد، آل ٹرائبل اسٹوڈنٹس یونین (اے ٹی ایس یو) منی پور نے 3 مئی کو میٹیوں کو شیڈول ٹرائب کا درجہ دینے کے لیے ایک ریلی نکالی۔ جو بعد میں پرتشدد ہو گیا۔
