حیدرآباد۔10۔ جنوری (سیاست نیوز) وزیر بلدی نظم ونسق کے ٹی آر نے تلنگانہ بی جے پی کے صدر بنڈی سنجے اور مرکزی وزیر جی کشن ریڈی کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے برقی سے متعلق سیس انتخابات کو ٹریلر قرار دیتے ہوئے کہا کہ ابھی پوری پکچر باقی ہے ۔راجنا سرسلہ میں منعقدہ سیس انتخابات میں بی آر ایس نے کلین سوئپ کیا ہے ۔ اس موقع پر صارفین اور کسانوں کے ساتھ منعقدہ اظہار تشکر جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کے ٹی آر نے کہا کہ سیس انتخابات میں کامیابی کیلئے بنڈی سنجے نے 5 کروڑ روپئے خرچ کئے ہے ۔ سیس کے انتخابات جیتنے میں ناکام بی جے پی اسمبلی کے انتخابات جیتنے کا خواب دیکھ رہی ہے ۔ یہ تو صرف ٹریلر تھا ، 2023 ء کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کو مکمل فلم دکھائی جائے گی ۔ تلنگانہ بی جے پی کے قائدین کو اچھے کام کرتے ہوئے عوام کے دلوں کو جیتنے کا مشورہ دیا ۔ کے ٹی آر نے تلنگانہ بی جے پی کے صدر بنڈی سنجے سے استفسار کیا کہ وزیراعظم نریندر مودی کس کے بھگوان ہیں ، تمہارے یا گجرات کے ، پٹرول اور پکوان گیس کی قیمتوں میں ا ضافہ کرنے والے سیاہ قوانین بناتے ہوئے کسانوں کی جان لینے والے بھگوان کیسے ہوسکتے ہیں ۔ بافندوں پر ٹیکس عائد کرنے والے بھگوان کیسے ہوتے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ بی جے پی پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ا ضافہ کر رہی ہے اور آر ٹی سی کے شرحوں میں اضافہ کی مخالفت کر رہی ہے ۔ اگر شرحوں میں اضافہ نہیں کیا گیا تو بسیں کیسے چلیں گی ۔ کے ٹی آر نے کہا کہ کرناٹک اور مہاراشٹرا کے درمیان سرحدوں کا تنازعہ چل رہا ہے ۔ دونوں ریاستوں میں بی جے پی کی حکومت ہے ۔ ریاستوں کے جھگڑوں کو حل کرنے میں ناکام ہونے والے مودی کیا روس اور یوکرین کی جنگ کو روک سکتے ہیں ۔ ملک کے 14 وزرائے اعظم نے جتنا قرض حاصل کیاتھا ، اس سے زیادہ نریندر مودی نے قرص حاصل کیا ہے ۔ن