مودی اور کشن ریڈی کی دولت نہیں بلکہ ہم تلنگانہ کا حق مانگ رہے ہیں: ریونت ریڈی

   

کشن ریڈی کی دھمکیوں سے ڈرنے والے نہیں، کے سی آر کی شکست سے مایوس ہوکر تلنگانہ کی ترقی میں رکاوٹ کا الزام، گاندھی بھون میں میڈیا سے چیف منسٹر کی بات چیت
حیدرآباد ۔ 28 ۔ فروری (سیاست نیوز) چیف منسٹر ریونت ریڈی نے تلنگانہ کے اہم پراجکٹس کی راہ میں مرکزی وزیر کشن ریڈی کو اہم رکاوٹ قرار دیا اور کہا کہ اپنے قریبی دوست کے سی آر کی شکست سے مایوس ہوکر کشن ریڈی تلنگانہ کی ترقی میں رکاوٹ پیدا کر رہے ہیں۔ گاندھی بھون میں پارٹی عاملہ اجلاس کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے چیف منسٹر نے مرکزی وزیر کشن ریڈی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ مرکزی فنڈس کے مسئلہ پر کشن ریڈی کا رویہ ایسا ہے جیسا کہ نریندر مودی گجرات سے کرنسی نوٹس ٹرین سے تلنگانہ کو بھیج رہے ہیں۔ چیف منسٹر نے کہا کہ ہم نریندر مودی یا کشن ریڈی کے اثاثہ جات دینے کا مطالبہ نہیں کر رہے ہیں بلکہ تلنگانہ مرکز سے اپنا حق مانگ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکز نے تلنگانہ کے ساتھ ہر معاملہ میں ناانصافی کا رویہ اختیار کیا ہے ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ تلنگانہ سے ٹیکس کی حصہ داری میں مرکز کو ایک روپیہ حاصل ہو تو ریاست کو محض 45 پیسے دیئے جارہے ہیں جبکہ گجرات کو 7 روپئے اور اترپردیش کو 3 روپئے مرکز ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کے خلاف ناانصافیوں کا سلسلہ بند ہونا چاہئے ۔ میٹرو ٹرین اور موسی ریور پراجکٹ کی منظوری میں کشن ریڈی کو اہم رکاوٹ قرار دیتے ہوئے چیف منسٹر نے کہا کہ گجرات میں سابرمتی اور دہلی میں یمنا ندی کی ترقی کا بی جے پی نے منصوبہ بنایا ہے لیکن حیدرآباد میں موسیٰ ندی کی ترقی میں مدد کیلئے تیار نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشن ریڈی نے مرکز سے تلنگانہ کیلئے ایک بھی پراجکٹ حاصل نہیں کیا ہے۔ مرکزی کابینہ اور پارلیمنٹ میں تلنگانہ کے حق میں کشن ریڈی نے زبان نہیں کھولی۔ انہوں نے کہا کہ اگر تلنگانہ کی ترقی میں کشن ریڈی سنجیدہ ہیں تو انہیں پراجکٹس کی منظوری مرکز سے حاصل کرنی چاہئے ۔ چیف منسٹر نے ریونت ریڈی کے رویہ کو دھمکی آمیز قرار دیا اور کہا کہ کشن ریڈی کی دھمکیوں سے کوئی ڈرنے والے نہیں ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ کشن ریڈی نے تلنگانہ کے پراجکٹس پر ایک مرتبہ بھی وزیراعظم سے نمائندگی نہیں کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر کی شکست سے مایوس ہوکر کشن ریڈی تلنگانہ کی ترقی میں رکاوٹ پیدا کر رہے ہیں۔ بی جے پی زیر اقتدار ریاستوں میں مرکز زائد فنڈس جاری کر رہا ہے ۔ ٹاملناڈو میں میٹرو پراجکٹ کی منظوری کی گئی لیکن تلنگانہ کے توسیعی منصوبہ کو منظوری میں کشن ریڈی رکاوٹ بن چکے ہیں۔ انہوں نے بی جے پی اور بی آر ایس میں خفیہ مفاہمت کا الزام عائد کیا اور کہا کہ کانگریس کارکنوں کو دونوں پارٹیوں کی حقیقت سے عوام کو واقف کرانا چاہئے ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ بی آر ایس کو میرے دہلی دوروں پر اعتراض ہے ، میں نے ان کی طرح شراب کے کاروبار کے لئے دہلی کا دورہ نہیں کیا بلکہ ریاست کی ترقی کیلئے کوشش کررہا ہوں۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ میناکشی نٹراجن کے تقرر سے کارکنوں کے اچھے دن آئیں گے۔1