مودی حکومت کا عوام پر ایک اور بوجھ ۔اب برقی شرحوں میں بھی ہر ماہ اضافہ ہوگا

   


٭ فی یونٹ 30 پیسے اضافہ کا مرکز سے ڈسکامس کو اختیار ۔آئندہ سال سے عمل
٭ تلنگانہ الیکٹریسٹی ریگولیٹری کمیشن سے ترمیمی مسودہ احکامات جاری
٭ گھریلو برقی صارفین کو زبردست جھٹکہ۔ اضافی مالی بوجھ عائد ہونا یقینی

حیدرآباد۔/24 نومبر، ( سیاست نیوز) جس طرح پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں وقتاً فوقتاً اضافہ ہورہا ہے اسی طرح آئندہ سال اپریل 2023 سے گھریلو برقی (ڈومیسٹک ) کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوگا۔ اس ضمن میں تلنگانہ اسٹیٹ الیکٹریسٹی ریگولیٹری ( آر سی ) نے چہارشنبہ کو مسودہ احکامات جاری کیا ہے جس میں الیکٹریسٹی ڈسٹری بیوشن کمپنیوں ( ڈسکامس ) کو ریاستی حکومت سے اجازت لینے کی ضرورت کے بغیر برقی بلز کی قیمتوں میں اضافہ کرنے کی مکمل آزادی دی گئی ہے۔ سنٹرل پاور ڈپارٹمنٹ کی جانب سے جاری کردہ احکامات کے مطابق اسٹیٹ الیکٹریسٹی کنٹرول نے سیکنڈ ترمیمی احکامات 2022 کے نام سے تازہ احکامات جاری کئے ہیں۔ واضح کیا گیا ہے کہ اس سے قبل جاری کردہ برقی کی قیمتوں کے نظر ثانی رہنمایانہ خطوط پر دوسری مرتبہ نظرثانی کی گئی ہے۔ ڈسکام کی جانب سے سال میں ایک مرتبہ بلز کی شکل میں فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ ( ایف سی اے ) جمع کررہے ہیں جس کی وجہ سے عوام پر زائد مالی بوجھ عائد ہورہا ہے۔ اس کے علاوہ مرکزی حکومت نے حال ہی میں ریاستوں کو حکم دیا ہے کہ وہ ہر ماہ برقی کی قیمتوں پر نظرثانی کریں۔ ای آر سی کے صدرنشین سری رنگا راؤ نے بتایا کہ اس حکم پر عمل آوری کیلئے ترمیمی احکامات جاری کرنا لازمی ہے۔ ایف سی اے کیا ہے؟ اس کی معلومات ضروری ہیں۔ کئی پاور اسٹیشنس عوام کو برقی کی سربراہی کیلئے روزانہ کی بنیاد پر انڈین انرجی ایکسچینج سے برقی خریدتے ہیں اس معاملہ میں ڈسکامس پہلے سے معاہدہ کرتی ہے کہ پاور اسٹیشن سے کتنی برقی خریدی جائے۔ اس کے مطابق برقی کے ہر یونٹ کیلئے ( فکسڈ چارج ) مقررہ قیمت ادا کی جاتی ہے۔ یہ قیمت تھرمل پاور اسٹیشن میں برقی کی پیداوار کیلئے درکار کوئلہ، پٹرول، ڈیزل اور دیگر خام مال کی خریداری اور وہاں کے ملازمین کی تنخواہوں کیلئے ادا کی جانے والی رقم ہے۔ اس لاگت کی بنیاد پر پاور اسٹیشن فی یونٹ اوسط قیمت کا تعین کرتا ہے۔ اگر یہاں اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے تو ایف سی اے کی شکل میں برقی بلز کے ذریعہ عوام سے ہر ماہ فی یونٹ 30 پیسے وصول کرنے کی اجازت فراہم کی گئی ہے۔ اگر اضافہ 30 پیسے فی یونٹ سے زیادہ ہو تو اس کیلئے پہلے کمیشن سے اجازت لینے کی ہدایت دی گئی ہے۔ ڈسکام روزانہ کی بنیاد پر انڈین انرجی ایکسچینج سے برقی خریدتے ہیں اس تبادلے میں برقی کا ایک یونٹ تقریباً 3 روپئے سے 12 روپئے تک خریدا جاتا ہے اور یہ بوجھ ماہانہ بلز کے ذریعہ وصول کیا جاتا ہے۔ تاحال یہ انتظام تھا کہ برقی کی قیمتوں پر نظرثانی کرنے کیلئے ریاستی حکومت سے اجازت لینی پڑتی تھی اور 30 نومبر تک برقی کی قیمت میں اضافہ کرنے کی تجویزای آر سی کو پیش کرنی پڑتی تھی۔تاہم کئی ریاستوں نے ان تجاویز کو اہمیت نہیں دی۔ رائے دہندوں سے ناراضگی مول لینے کیلئے بیشتر ریاستیں تیار نہیں تھیں۔جس پر مرکز نے حال ہی میں برقی کے قوانین میں یہ کہتے ہوئے ترمیم کا حکم دیا ہے کہ ڈسکام خسارہ میں ڈوب رہے ہیں ۔ ان کے مطابق ای آر سی نے حال ہی میں حکم دیا ہے کہ ہر ماہ وصول کی جانے والی ایف سی اے کی رقم اگلے ماہ کی 15 تاریخ تک ڈسکام کی ویب سائیٹ پر عوام کے سامنے رکھ دی جائے۔ ساتھ ہی یہ بھی احکامات جاری کئے ہیں کہ مالی سال کے اختتام کے بعد اس سال ایف سی اے کی شکل میں کتنی رقم جمع ہوئی ہے، اس کا حساب ای آر سی کو دیا جانا چاہیئے۔ اگر اخراجات سے زیادہ رقم وصول کی گئی ہے تو عوام کو واپس کردینے کا بھی لزوم رکھا گیا ہے۔ن