مودی حکومت کی ’وعدہ خلافی‘ پر کسانوں کی ریل روکو تحریک

   

چنڈی گڑھ: مودی حکومت کے خلاف کسانوں میں ایک بار پھر ناراضگی ہے اور انہوں نے احتجاج شروع کر دیا ہے۔ سنیوکت کسان مورچہ سے وابستہ تقریباً 40 کسان تنظیموں نے اتوار کے روز پنجاب بھر میں کئی مقامات پر صبح 11 بجے سے سہ پہر 3 بجے تک چار گھنٹے ‘ریل روکو’ تحریک چلائی۔ کسانوں نے حکومت پر ایم ایس پی سمیت متعدد مطالبات کو پورا نہ کرنے کا الزام عائد کیا۔ریل روکو تحریک کے دوران متعدد کسانوں نے ریلوے ٹریک پر لیٹ کر مظاہرہ کیا۔ کسانوں نے اپنے مطالبات پورے نہ ہونے کے خلاف امرتسر اور بھٹنڈہ میں ریلوے ٹریک کو بلاک کر دیا۔ اس کے علاوہ انبالہ، پنچکولہ میں بھی کسانوں نے مرکزی حکومت کے خلاف احتجاج کیا۔اس سے قبل، بھارتیہ کسان یونین کے جنرل سکریٹری اور یونائیٹڈ کسان مورچہ کے ریاستی کمیٹی کے رکن ہریندر سنگھ لکھووال نے اپنے بیان میں کہا کہ ایم ایس پی پر نہ تو کوئی کمیٹی بنائی گئی ہے اور نہ ہی تحریک کے دوران کسانوں کے خلاف درج کیے گئے فرضی مقدمات واپس لئے گئے۔ کسانوں نے حکومت پر یہ بھی الزام لگایا کہ وہ کسانوں کے سب سے اہم مطالبہ ایم ایس پی کی قانونی ضمانت پر غور کرنے کو تیار نہیں ہے۔دریں اثنا، سنکوکت کسان مورچہ نے 3 اگست کو گنے کے بقایا جات کی عدم ادائیگی اور سفید مکھی سے تباہ ہونے والی کپاس کی فصل کے معاوضے سمیت متعدد مسائل پر پنجاب حکومت کے خلاف احتجاج کرنے کا اعلان کیا ہے۔ بھارتیہ کسان یونین کے رہنما جگجیت سنگھ دلے وال نے کہا کہ کسان اس دن ریاست کے ماجھا، مالوا اور دوآبہ علاقوں میں تین مقامات پر قومی شاہراہوں کو مسدود کر کے احتجاج کیا جائے گا۔