نئی دہلی ، وزیر اعظم کے جمعہ کے روز لداخ دورے کے دوران زخمی جوانوں سے ملنے کی جگہ کے تعلق سے سوالات اٹھائے جانے کے بعد فوج نے وضاحت کی اور کہا کہ جس جگہ جوانوں کو رکھا گیا ہے وہ جنرل اسپتال کا توسیعی کیمپس کا حصہ ہے لیکن اسے کورونا وبا کی وجہ سے الگ رکھا گیا ہے ۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کے روز اچانک لداخ کے دورے پر جاکرچینی فوجیوں کے ساتھ 15 جون کو وادی گلوان میں تصادم کے دوران زخمی ہونے والے فوج جوانوں سے فوج کے جنرل ہاسپٹل میں ملاقات کی تھی ۔ یہ جوان اسپتال میں زیر علاج ہیں۔ رپورٹوں کے مطابق اس کے بعد سوشل میڈیا میں کہا گیا کہ جس جگہ مودی نے جوانوں سے ملاقات کی وہ ہاسپٹل کا حصہ نہیں تھا اور جوانوں کو صرف اس ملاقات کے لئے رکھا گیا تھا۔ فوج نے اس پر آج ایک بیان جاری کر کے ہوئے کہا ہے کہ وزیر اعظم نے جوانوں سے جس جگہ پر ملاقات کی اس کے متعلق بے بنیاد الزامات عائد کئے گئے ہیں۔
لداخ کے لوگوں کا انتباہ نظرانداز کرنا بھاری پڑیگا:راہول
نئی دہلی:کانگریس کے سابق صدرراہول گاندھی نے کہا ہے کہ لداخ کے محب وطن عوام چینی فوجیوں کی دراندازی کے بارے میں لگاتار چوکنا کررہے ہیں، ان کے انتباہات کو نظرانداز کرنے سے ملک کو بہت نقصان ہوگا۔ گاندھی نے ہفتہ کے روز ٹوئٹ کرتے ہوئے کہاکہ لداخ کے لوگ چینی دراندازیوں کے خلاف مستقل طور پر آواز اٹھا رہے ہیں۔ وہ چیخ چیخ کر اس کے بارے میں انتباہ کر رہے ہیں۔ گاندھی نے کہا کہ حکومت کو ان کی آواز سننی چاہئے اور اسے دیکھنا چاہئے ۔ انہوں نے کہاان کی بات کو نظر انداز کرنا مہنگا پڑے گا۔ ہندوستان کی سلامتی کے لئے براہ کرم ان کی بات سن لیجئے ۔