مودی کی طویل حکمرانی ‘ رپورٹ کارڈ ندارد

   

یاں نہ تھا بابِ اثر ، بند مگر کیا کیجئے
آہ پہنچی تھی کہ دشمن کی دعا بھی آئی
وزیر اعظم نریندرمودی کو ہندوستان میں طویل وقت تک منتخب وزیر اعظم کی حیثیت سے برقراری کا اعزاز حاصل ہوا ہے ۔ اس معاملے میں انہوں نے ملک کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو کو پیچھے چھوڑ دیا ہے ۔ تاحال یہ ریکارڈ پنڈت نہرو کے نام درج تھا تاہم اب یہ ریکارڈ نریندر مودی کے نام درج ہوچکا ہے ۔ بی جے پی اور حکومت کی جانب سے اس اعزاز کو ایک ریکارڈ کے طور ر پیش کیا جا رہا ہے اور اس کی کافی تشہیر ہو رہی ہے ۔ اسے وزیر اعظم نریندر مودی کا شخصی کارنامہ قرار دینے سے بھی گریز نہیں کیا جا رہا ہے ۔ ویسے بھی ملک میں یہ روایت چل پڑی ہے کہ ہر کارنامہ کو وزیر اعظم مودی سے جوڑا جا رہا ہے اور ہر ناکامی کو آنجہانی پنڈت جواہر لال نہرو کے نام کیا جا رہا ہے ۔ ملک کے دوام نے دو معیادوں کیلئے نریندر مودی کو راست اقتدار حوالے کیا تھا تاہم وہ تیسری معیاد اپنے طور پر حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے تھے اور انہیںحکومت سازی کیلئے حلیف جماعتوں کی تائید درکار رہی ۔ اب بھی حکومت پر برقراری کیلئے حلیف جماعتوں کی تائید پر ہی حکومت کا انحصار ہے تاہم اس کو فراموش کرتے ہوئے اسے مودی کا شخصی ریکارڈ قرار دینے اور تشہیر کرنے میں کوئی گریز نہیں کیا جا رہا ہے ۔ جمہوریت کی خصوصی یہی ہے کہ کسی کو بھی اقتدار سونپا جاسکتا ہے اور کسی کو بھی اقتدار سے بیدخل کیا جاسکتا ہے ۔ تاہم جمہوریت میں یہ بات بھی اہمیت کی حامل ہے کہ حکومت پر برقرار رہتے ہوئے کیا کچھ کارنامے انجام دئے گئے ان کو عوام کے سامنے پیش کیا جائے ۔ حکومت کا رپورٹ کارڈ عوام میں پیش کرنے کی ضرورت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے ملک میں میڈیا اپنا فرض ادا کرنے اور حکومت سے سوال کرنے کی بجائے اپوزیشن کو دبانے اور کچلنے میں زیادہ مصروف ہوگیا ہے ۔ حکومت کی ناکامیوں کو چھپانے اور ان کا جواز پیش کرنے میں زیادہ سرگرمی دکھا رہا ہے ۔ عوامی مسائل پر مباحث کرنے کی بجائے ہندو ۔ مسلم مسائل کو ہوا دینے میںمیڈیا کی سرگرمی زیا دہ دکھائی دیتی ہے ۔ طویل عرصہ تک حکمرانی کا جشن تو منایا جا رہا ہے لیکن حکومت کے کاموں کا رپورٹ کارڈ پیش نہیں کیا جارہا ہے ۔
کسی بھی حکومت کو اپنے وعدے پورے کرنے کیلئے پانچ سال کا وقت ہوتا ہے اور ہر پارٹی پانچ سالہ معیاد کو ذہن نشین رکھتے ہوئے ہی وعدے کرتی ہے ۔ تاہم مودی حکومت کو مرکز میں بارہ سال سے زیادہ عرصہ ہوگیا ہے لیکن سالانہ دو کروڑ روزگار فراہم کرنے کا وعدہ پورا نہیں کیا گیا ۔ ہر شہری کے بینک کھاتہ میں پندرہ لاکھ روپئے جمع کروانے کے وعدے کو انتخابی جملہ قرار دیتے ہوئے حکومت نے بری الذمہ ہونے کی کوشش کی ہے ۔ کسانوں کی آمدنی دوگنی کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا تاہم آج بھی ملک بھر میں کسان اقل ترین امدادی قیمت کے حصول کیلئے جدوجہد کر رہے ہیں۔ گذشتہ بارہ سال میں بھی کسانوں کی خود کشی کے واقعات میںکسی طرح کی کمی نہیں آئی ہے ۔ ملک میں 100 اسمارٹ شہر بنانے کا وعدہ کیا گیا تھا ۔ جو شہر پہلے سے ہی اسمارٹ تھے شائد اب وہ بھی اسمارٹ نہیں رہ گئے ہیں۔ یہ وعدہ بھی ہندو ۔ مسلم اختلاف کی نذر ہوگیا ہے اور اس پر بھی کسی میڈیا چینل پر بحث کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی ۔ مہنگائی کو محض 100دن میں کم کرنے کا ملک کے عوام سے وعدہ کیا گیا تھا تاہم مہنگائی اپنی حدوں کو چھو رہی ہے اور اشیائے ضروریہ کی قیمتیں آسمان چھونے لگی ہیں۔ حکومت شائد ہی اس مسئلہ پر کوئی بیان دینے کو تیار ہو ۔ اگر کوئی وزیر بیان دیتا بھی ہے تو کہتا ہے کہ مہنگائی نہیں ہے ۔ کوئی کہتا ہے کہ چونکہ وہ لہسن اور پیاز نہیں کھاتے اس لئے ان کی قیمتوں میںاضافہ کی انہیں کوئی پرواہ نہیں ہے ۔ یہ صورتحال ایسی ہے جس کا جائزہ لینا چاہئے ۔
یقینی طور پر حکومت کو لگاتار بارہ برس برقراری کا جشن منانا چاہئے ۔ تاہم ساتھ ہی بارہ سال میں جو انتخابی وعدے پورے نہیں کئے گئے ان کا بھی تذکرہ کرنا چاہئے ۔ حکومت کو اپنا رپورٹ کارڈ پیش کرنا چاہئے ۔ یہ وضاحت کرنی چاہئے کہ 12 سال قبل جو سبز باغ دکھائے گئے تھے ان کا اب تذکرہ کرنے سے گریز کیوں کیا جاتا ہے ۔ ملک کے میڈیا کو بھی اس معاملے میں حکومت سے سوال پوچھنا چاہئے تھا لیکن ہمارا میڈیا اب آزاد میڈیا نہیںرہ گیا ہے اور وہ بھی ملک کے دیگر اداروں کی طرح مکمل طور پر حکومت کے کنٹرول میں ہے ۔ ملک کے عوام کو مگر اس معاملے میں حکومت سے سوال کرنے سے گریز نہیں کرنا چاہئے ۔