مودی کی ناقص پالیسیاں، ملک کی ایکسپورٹ انڈسٹری کو خطرہ لاحق

   

ہٹ دھرمی اور امریکی ٹیرف ملک کی اہم صنعتوں کے مفلوج ہونے کی وجوہات

نئی دہلی ۔ 13 ستمبر (ایجنسیز) مودی سرکار کی ناقص پالیسیوں اور غیر سنجیدہ اقدامات نے ملک کی معیشت کو شدید بحران کی طرف دھکیل دیا ہے۔ ہٹ دھرمی اور امریکی ٹیرف کے باعث ملک کی اہم صنعتیں مفلوج ہو کر رہ گئی ہیں۔ بین الاقوامی میڈیا الجزیرہ کے مطابق امریکہ کی جانب سے 50 فیصد ٹیرف نے ہندوستان کی قالین صنعت کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ خاص طور پر بھدوہی کے قالین برآمد کنندگان کا کاروبار ٹھپ ہوچکا ہے اور گزشتہ ایک ماہ میں امریکہ کو کوئی بھی کارگو نہیں بھیجا گیا۔ ہندوستان میں قالین کے کاروبار سے وابستہ افراد بدترین حالات کی وجہ سے شدید پریشانی میں مبتلا ہیں۔ کئی صنعت کاروں کا کہنا ہے کہ یہ ان کے 50 سالہ کیریئر کا سب سے مشکل وقت ہے۔ ان کے مطابق اگر صورتحال بہتر نہ ہوئی تو یہ صنعت مکمل طور پر زوال پذیر ہو جائے گی کیونکہ ہندوستانی قالین صنعت کا انحصار مکمل طور پر امریکہ پر ہے اور گھریلو مارکیٹ نہ ہونے کے برابر ہے۔ صنعت کاروں نے شکایت کی کہ مذاکرات کے ذریعہ مسئلے کے حل کی امید تھی لیکن کوئی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔ ان کا کہنا ہے کہ سخت امریکی ٹیرف نے ان کے کاروبار کو تقریباً بند کر دیا ہے۔ کئی فیکٹری مالکان نے ملازمین کے کام کا دورانیہ کم کر دیا ہے اور اگر حالات ایسے ہی رہے تو ہزاروں افراد کو ملازمتوں سے فارغ کرنا پڑ سکتا ہے۔ صنعت کاروں نے اس خدشے کا بھی اظہار کیا کہ ترکیہ اور پاکستان کم ٹیکس کی وجہ سے امریکی منڈی میں ہندوستانی قالین کی جگہ لے رہے ہیں۔ اس صورتحال نے مودی حکومت کے خود انحصاری کے تمام دعوؤں کی حقیقت کھول دی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں ہندوستان کی بڑھتی ہوئی تنہائی دراصل مودی سرکار کی ناکام اقتصادی پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔