عہدیداروں کو چیف منسٹر کی ہدایت، آئندہ تین ماہ اہمیت کے حامل، پراجکٹس میں موجود پانی کا احتیاط سے استعمال کریں، محکمہ آبپاشی کا اعلیٰ سطحی اجلاس
حیدرآباد ۔ 17 ۔ فروری (سیاست نیوز) چیف منسٹر ریونت ریڈی نے موسم گرما کے دوران پینے کے پانی کی سربراہی اور آبپاشی سہولتوں کیلئے سربراہی پر عہدیداروں کو سمر ایکشن پلان تیار کرنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے عہدیداروں سے کہا کہ وہ آبپاشی پراجکٹس میں موجود پانی کے ذخیرہ کا احتیاط سے استعمال کریں۔ چیف منسٹر نے کہا کہ مختلف آبپاشی پراجکٹس سے طئے شدہ پلان کے مطابق فصلوں کو پانی سربراہ کیا جائے۔ محکمہ آبپاشی کے عہدیداروں سے کہا گیا ہے کہ وہ آئندہ تین ماہ کی پانی کی ضرورت کو پیش نظر رکھتے ہوئے تمام تر احتیاطی قدم اٹھائیں۔ چیف منسٹر نے عہدیداروں سے کہا کہ وہ باقاعدگی کے ساتھ فیلڈ ویزٹ کریں اور ضرورت کے مطابق ایکشن پلان تیار کریں۔ چیف منسٹر نے کہا کہ فصلوں کو پانی کی سربراہی کے سلسلہ میں کسانوں کو کوئی دشواری نہ ہونے پائے۔ آبپاشی پراجکٹس سے موسم گرما کے دوران فصلوں کو موثر پانی سربراہ کیا جائے۔ چیف منسٹر نے وزیر آبپاشی اتم کمار ریڈی اور اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ پراجکٹس میں پانی کی موجودگی اور موسم گرما کی طلب کا جائزہ لیا۔ عہدیداروں نے چیف منسٹر کو مختلف پراجکٹس اور ذخائر آب میں موجودہ پانی کی سطح سے واقف کرایا جس میں سری سیلم ، ناگرجنا ساگر اور سری رام ساگر پراجکٹ شامل ہیں۔ چیف منسٹر نے کہا کہ موسم گرما میں پانی کے کسی بھی بحران سے بچاؤ کے لئے موجودہ پانی کو احتیاط سے خرچ کیا جائے۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ آئندہ تین ماہ اہمیت کے حامل ہیں اور آبپاشی کے ساتھ ساتھ پینے کے پانی کی طلب میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پانی کے علاوہ برقی کی طلب میں بھی موسم گرما میں اضافہ ہوگا۔ چیف منسٹر نے ضلع کلکٹرس کو ہدایت دی کہ پینے کے پانی اور آبپاشی کی ضرورت کیلئے کسی رکاوٹ کے بغیر پانی سربراہ کریں۔ مقامی عہدیداروں کے ساتھ اجلاس منعقد کرتے ہوئے ضلع واری سطح پر واٹر مینجمنٹ کے ایکشن پلان تیار کئے جائیں۔ چیف منسٹر نے کلکٹرس کو ہدایت دی کہ وہ پراجکٹس اور فصلوں کا معائنہ کریں۔ انہوں نے چیف سکریٹری شانتی کماری کو ہدایت دی کہ وہ کلکٹرس کے ساتھ ٹیلی کانفرنس کے ذریعہ ہدایات جاری کریں۔ چیف منسٹر نے سری سیلم اور ناگرجنا ساگر میں دریائے کرشنا کے پانی کے استعمال میں چوکسی کا مشورہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ دریائے کرشنا کے پانی کے استعمال میں تلنگانہ کے طئے شدہ حقوق کو پیش نظر رکھا جائے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ آندھراپردیش کو مقررہ کوٹہ سے زیادہ پانی کے استعمال سے روکنے کی ضرورت ہے۔ عہدیداروں نے بتایا کہ زائد پانی کے استعمال سے روکنے کیلئے حکومت آندھراپردیش ضروری مکانزم کی تیاری میں تعاون سے گریز کر رہی ہے۔ چیف منسٹر نے پرنسپل سکریٹری آبپاشی راہول بوجا کو ہدایت دی کہ کرشنا ریور مینجمنٹ بورڈ کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے ٹیلی میٹر سسٹم کیلئے درکار فنڈ سے واقف کرائیں۔ اس سسٹم کے ذریعہ آندھراپردیش کو زائد پانی کے استعمال سے روکا جاسکتا ہے۔ چیف منسٹر نے عہدیداروں سے کہا کہ وہ آندھراپردیش کے خلاف مرکزی حکومت سے شکایت کریں۔ مرکزی حکومت کو چاہئے کہ وہ آندھراپردیش کو زائد پانی کے استعمال سے روکیں۔1