ڈیزائن کی تیاری پر خصوصی توجہ ، اعلیٰ عہدیداروں کا مطالعاتی دورہ پیرس ، عنقریب حکومت کو رپورٹ کی پیشکشی
حیدرآباد /25 نومبر ( سیاست نیوز ) شہر حیدرآباد کے موسی ندی پر پیرس طرز کے برجس تعمیر کرنے کی تیاریاں شروع کردی گئی ہیں ۔ سٹی انجینئیرنگ اور محکمہ ٹاون پلاننگ کے عہدیداروں نے حال ہی میں پیرس کا مطالعاتی دورہ کرتے ہوئے وہاں ندی پر تیار کردہ برجس کا جائزہ لیا ہے اور اس ضمن میں ایک رپورٹ تیار کر رہے ہیں ۔ جس کو حکومت سے رجوع کیا جائے گا ۔ پیرس میں تاریخی شان و شوکت اور محل و قوع کی عکاسی کیلئے یہ برجس تعمیر کئے گئے ہیں ۔ جس کے پیش نظر پرانے شہر کی تاریخی عمارتیں تہذیب و ثقافت کا تحفظ کرنے کیلئے کئے جانے والے اقدامات کے طور پر برجس کو ڈیزائن کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے ۔ حیدرآباد سے پیرس کیلئے روانہ ہونے والے اعلی عہدیداروں کے ایک وفد نے مشہور آرکیٹکٹ و انجینئیر مارک ممرم سے ملاقات کرتے ہوئے مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا ہے ۔ جی ایچ ایم سی کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ موسی ندی پر تعمیر کئے جانے والے برجس کی احتیاطی تدابیر اور اس کو سیاحتی علاقہ کے طرز پر ترقی دینے کیلئے کئے جانے والے اقدامات پر تفصیلی بات چیت ہوئی ہے ۔ عہدیداروں کی ٹیم نے مارک ممرم کے آفس میں برج کی تعمیرات سے متعلق لکڑیوں کے ماڈلس سے بنے ہوئے نمونوں کا بھی جائیزہ لیا ہے ۔ عہدیداروں کی ٹیم نے 5 دن تک دریا پر تعمیر کردہ مختلف برجس ، تاریخی عمارتوں ، ان کے تحفظ تزئین و آرائش کیلئے کئے گئے اقدامات کے بارے میں معلومات حاصل کی ہے ۔ وہاں کے جغرافیائی حالت اور دریا کے دونوں اطراف کی تعمیرات کو مدنظر رکھتے ہوئے موسی ندی پر پیرس طرز کے برجس کی تعمیرات کیلئے منصوبہ بندی تیار کی جارہی ہے ۔ پیرس میں دریائے سین پر 37 برجس تعمیر کئے گئے ہیں ۔ جبکہ زیادہ تر برجس گاڑیوں کی آمد و رفت کیلئے تعمیر کئے گئے ہیں اور یہ برجس دریا کے دونوں طرف رہنے والے عوام کو ایک دوسرے سے ملانے میں اہم رول ادا کرتے ہیں ۔ اپنی تاریخی عمارتوں کی وجہ سے مشہور پیرس ایفل ٹاور اور اس کی قدیم عمارتوں کے ساتھ سیاحوں کیلئے ایک بڑی کشش ہے ۔ دریا کے دونوں کناروں پر تاریخی عمارتوں کے تسلسل کے طور پر برجس کو ڈائزن کیا گیا ہے ۔ تاکہ سیاح دریا میں پانی کے مسلسل موجودگی کے پس منظر میں قدرتی علاقوں سے لطف اندوز ہوسکے ۔ دریا پر 37 برجس کی لمبائی تقریباً 13 کیلومیٹر ہے ۔ دریائے سیف پر برجس کا علاقہ Pond de Sully Bridge سے Pond Alexander-3 سے Pond de Bir-Hakim تک کا علاقہ یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثہ کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے ۔ اعلی عہدیداروں نے موسی ندی پر 14 برجس اور ایک رابطہ سڑک کی تعمیر کیلئے تجاویز تیار کی ہے ۔ افضل گنج پر پیدل چلنے والے عوام کیلئے برج تعمیر کیا جارہا ہے ۔ 545 کروڑ روپئے خرچ ہونے کا تخمینہ تیار کیا گیا ہے ۔ اس سال جولائی میں ہی حکومت نے ان تجاویز کیلئے انتظامی منظوری دی تھی ۔ موسی رام باغ ، چادر گھاٹ کے علاوہ دیگر علاقوں میں پہلے سے برجس موجود ہیں ۔ موسی ندی میں پانی کا بہاؤ بڑھ جانے پر یہ برجس پر پانی آجاتا ہے ۔ جس کی وجہ سے دو تین دن تک ان برجس پر ٹریفک بند کردی جاتی ہے ۔ اس پس میں موجودہ برجس سے اونچے برجس تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ حکومت کی جانب سے موسی ندی پر تعمیر کئے جانے والے برجس کو کچھ اس طرح تعمیر کرنا چاہتی ہے ۔ جس سے شہر کی تاریخی شان و شوکت کو ظاہر کرنے اور اس علاقہ کی عکاسی کیلئے ڈیزائن کئے جائیں گے ۔ ن