لالہ گوڑہ اولڈ بوائز اسوسی ایشن کا موثر تعاون ۔ روزنامہ سیاست کی ملی اور فلاحی سرگرمیوں کی ستائش
حیدرآباد ۔ 25 ۔ اکٹوبر : ( سیاست نیوز ) : مولا علی میں سیاست ، ملت فنڈ اور لالہ گوڑہ اولڈ بوائز اسوسی ایشن کے تعاون سے 120 واں دو بہ دو ملاقات پروگرام آج نیو انڈیا فنکشن ہال میں منعقد ہوا ۔ جس میں دونوں شہروں کے علاوہ مولا علی کے اطراف کی بستیوں سے مسلم لڑکوں و لڑکیوں کی شادیوں کیلئے والدین پہنچے ۔ حسب سابق تعلیمی اعتبار سے علحدہ کاونٹرس رکھے گئے تھے جس میں تجربہ کار و تربیت یافتہ والینٹرس کو والدین کی کونسلنگ کرتے رشتہ کے انتخاب میں مدد کی گئی ۔ الحمدﷲ جتنے والدین بھی اس پروگرام میں شریک رہے خوشنودی کا اظہار کیا ۔ پروگرام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والوں میں جہاں سیاست اور ملت فنڈ کے اراکین ہیں وہیں لالہ گوڑہ اولڈ بوائز اسوسی ایشن کا تعاون حاصل رہا ہے ۔ جناب سید تاج الدین صدر لالہ گوڑہ اولڈ بوائز اسوسی ایشن نے والدین اور سرپرستوں و دیگر کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ اسوسی ایشن کا قیام 2014 میں عمل میں آیا اور اب تک سیاست اور ملت فنڈ کے تعاون سے چھ پروگرام مکمل ہوئے جہاں والدین کیلئے لڑکوں اور لڑکیوں کے رشتوں میں آسانیاں پیدا کی گئی ۔ انہوں نے کہا کہ رسول کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ نکاح نصف ایمان ہے اس لحاظ سے اگر مسلم نوجوان تعلیم و ملازمت سے فراغت کے بعد اس طرف توجہ دیں تو وہ اپنی دنیا اور آخرت کو سنوار سکتے ہیں ۔ انہوں نے مولا علی میں خواجہ ایجوکیشنل ٹرسٹ کے تحت جہاں دینی و عربی تعلیم کے ساتھ اردو و ہندی زبان کی تعلیم دی جارہی ہے اور لڑکیاں ٹیلرنگ ، مہندی ڈیزائن اور دوسرے کورس سے استفادہ حاصل کررہے ہیں ۔ مولانا مفتی سعادت حسین جنرل سکریٹری صالحہ ایجوکشنل سوسائٹی و امام مسجد عرفات آنند باغ نے کہا کہ ان دنوں مسلم معاشرہ میں طلاق و خلع کے معاملات میں کچھ ٹہراؤ پیدا ہوا ہے اس لیے کہ محلہ واری سطح پر ایسی سماجی و فلاحی تنظیمیں ہیں جو فلاح کا کام انجام دے رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سیاست اور ملت فنڈ کا یہ اقدام کہ لڑکوں اور لڑکیوں کو رشتہ ازدواج سے منسلک کرنے کا جو بیڑہ اٹھایا ہے وہ بڑا موثر ہے ۔ انہوں نے کہا کہ والدین رشتوں کے انتخاب میں دینداری کی بجائے مال ، حسب و نسب اور خوبصورتی کو بنیاد بنا رہے ہیں جس سے نت نئے واقعات پیش آرہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ جو رشتے صرف مال کی بنیاد پر وجود میں آتے ہیں وہ پائیدار نہیں ہوتے ۔ اس لیے لڑکی حیا دار ، خدمت گذار ، ادب و احترام والی ہو ۔ ڈاکٹر ناظم علی نے کہا کہ ان دنوں مسلم معاشرہ دن بہ دن مسائل میں گھر رہا ہے اور مسلمان خود ساختہ اصول بناکر اسے زندگی میں رائج کررہے ہیں جس سے لڑکے و لڑکیاں نت نئے مسائل میں گھر کر نفسیاتی بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں ۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ آج لین دین اور گھناؤنی سماجی برائیوں کی بناء مسلم لڑکیاں ارتداد کا شکار ہورہی ہیں ۔ اس پر روک لگانا بے حد ضروری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایک دور تھا جب لڑکیوں کو رشتوں کے انتخاب میں اخلاق و کردار کو دیکھا جاتا تو لڑکیاں زیادہ اخلاق حاصل کرتی نظر آتیں اور آج لڑکیوں کے انتخاب میں ڈگریوں کو ترجیح دی جا رہی ہے تو لڑکیاں ڈگریاں حاصل کررہی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ جناب زاہد علی خاں کی یہ منصوبہ بندی کہ شادی میں ایک کھانا اور میٹھا رکھا جائے تو اس کو اگر زندہ رکھیں تو معاشرہ اسراف سے کو بچائے رکھے گا ۔ جناب محمد عثمان ایڈوکیٹ جوائنٹ سکریٹری اسوسی ایشن نے سیاست اور ملت فنڈ کے زیر اہتمام جو تعلیمی سماجی و فلاحی کام کیے جارہے ہیں ان کی سراہنا کی اور کہا کہ دو بہ دو ملاقات و کونسلنگ کے علاوہ طلباء و طالبات کے کیرئیر کو پروان چڑھانے رہنمائی و رہبری کا کام جاری ہے جس سے ہزاروں طلباء مسابقتی امتحانات میں کامیابی کے بعد صحیح مقام پر پہنچے اور اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں اس میں جناب زاہد علی خاں ‘ جناب ظہیر الدین علی خاں اور جناب عامر علی خاں کا شب و روز تعاون حاصل ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آج مسابقتی امتحان میں طلباء وطالبات اعلیٰ نمبرات حاصل کرنے کے باوجود ان کی صحیح طور پر رہنمائی نہ ہونے کے بنا وہ داخلہ لے نہ سکے لیکن الحمدﷲ جب سے سیاست نے طلباء کی کونسلنگ کا بیڑہ اٹھایا اس وقت سے لے کر آج تک تعلیم یافتہ طلباء کی صحیح طور پر رہبری مل رہی ہے ۔ لالہ گوڑہ اولڈ بوائز اسوسی ایشن کے اراکین و کارکنان جن میں جناب سید تاج الدین صدر ، محمد جہانگیر سکریٹری ، مولانا مفتی محمد سعادت حسینن ، جناب رحمت اللہ بیگ نائب صدر ، خالق الزماں اسسٹنٹ سکریٹری ، محمد ذاکر نائب صدر ، جناب ایس اے واجد ، سید سلیم ، صدام حسین کے علاوہ سید اظہر الدین ، سید محمد ریان عباس ، سید محمد دبان عباس اور دوسروں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور اس پروگرام کو کامیابی سے ہمکنار کیا جو شہ نشین پر بھی موجود تھے ۔ لالہ گوڑہ میں اس سے قبل پروگرام نفیس فنکشن ہال ، بھارت فنکشن ہال لالہ گوڑہ مولا علی میں منعقد ہوئے جس میں محمد خواجہ ، جناب سید زین العابدین اور جناب محمد عبدالقدیر موجود تھے جو دارفانی سے کوچ کر گئے ان کیلئے دعائے مغفرت کی گئی ۔ پروگرام میں لڑکوں اور لڑکیوں کیلئے علحدہ کاونٹرس رکھے گئے جس پر محترمہ یاسمین ، شمیم اور لڑکیوں کے رجسٹریشن کاونٹر پر امتیاز ترنم ، یاسمین اور غوثیہ بیگم اور آن لائن رجسٹریشن پر محترمہ شمیم موجود تھیں ۔ اس کے علاوہ سلسلہ وار کاونٹرس جو تعلیمی بنیادوں پر ترتیب دئیے گئے تھے جس میں امتہ فاطمہ ، غوثیہ بیگم ، لطیف النساء ، صالح بن عبداللہ باحاذق ، تسکین ، ڈاکٹر ناظم علی ، ڈاکٹر سیادت علی ، عظمیٰ ، محمدی ، ثانیہ ، شاہانہ ، شیاز ، آمنہ خان ، لطیف النساء ، شاہانہ ، محمدی ، ثانیہ اور کمپیوٹرس سیکشن پر غوثیہ بیگم ، فردوس ، ثمینہ ، ثناء ، کریمہ نے والدین اور سرپرستوں کی رہبری و رہنمائی جب کہ جناب خالد محی الدین اسد ، محمد نصر اللہ خاں ، امتیاز ترنم خاں اور فرزانہ نے سوپروائزنگ کی ۔ سیاست ٹی وی ، فیس بک ، انسٹاگرام اور دیگر ذرائع سے دو بہ دو ملاقات پروگرام کو ملک و بیرونی ممالک میں نشر کرنے کی سہولت مہیا کی گئی اور جن لوگوں نے راست پروگرام کو دیکھا انہوں نے اپنے تاثرات میں اس پروگرام کی سراہنا کی اور لڑکوں اور لڑکیوں کو رشتہ ازدواج سے منسلک کرنے پر جناب زاہد علی خاں ، جناب ظہیر الدین علی خاں و جناب عامر علی خاں اور دوسروں کو مبارکباد دی ۔ پروگرام میں شہر میں ہوئے حالیہ گیزر کے پھٹ پڑنے سے دو نوجوان میاں بیوی ڈاکٹر سید نثار الدین اور ڈاکٹر ام مہیمن سلمہ کی موت پر مولانا مفتی محمد سعادت حسین نے دعا کی ۔ ان ہی کے دعائیہ کلمات پر یہ دو بہ دو ملاقات پروگرم کا اختتام عمل میں آیا ۔