موہن بھاگوت ‘ ہندوتوا اور مسلمان

   

Ferty9 Clinic

بلند و پست کا ہے فرق اپنی نظروں میں
زمیں زمیں ہے اسے آسماں نہیں کہتے
موہن بھاگوت ‘ ہندوتوا اور مسلمان
آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت ایسا لگتا ہے کہ کچھ معاملات میںاپنے پیشرو آر ایس ایس سربراہان کے نظریات سے ہٹ کر بات کرتے ہیں۔ وہ وقفہ وقفہ سے ملک کے مسلمانوں کو یہ تیقن دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہندوستان میں انہیں بھی مساوی مواقع حاصل ہیں اور انہیں کسی طرح کے اندیشوں کا شکار ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔ کبھی وہ اس موضوع سے بھٹک کر کہتے ہیں کہ ہندوستان میں بسنے والے تمام ہی لوگ ہندو ہیں کیونکہ ان کے خیال میں ہندو کوئی مذہب یا فرقہ نہیں ہے بلکہ یہ ہمارے وطن کا کلچر ہے ۔ یہ مادر وطن کی یاد دہانی کرواتا ہے اور یہ قدیم وقتوں سے چلتا آ رہا ہے ۔ بھاگوت کا کہنا تھا کہ ہندو کی جو اصطلاح ہے وہ کسی کی زبان ‘ برادری یا اس کے مذہب کی عکاسی نہیں کرتی بلکہ یہ ہماری مادر وطن اور ہمارے کلچر کی عکاس ہے ۔ وہ کبھی مسلمانوں کے خلاف نازیبا ریمارکس کرنے والوں کی تنبیہہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو کبھی خود اختلافی اور نزاعی بیان بازی سے گریز نہیں کرتے ۔ وقفہ وقفہ سے وہ مسلمانوں کے تعلق سے کوئی نہ کوئی ریمارک ضرور کرتے ہیں۔ ان کا یہ استدلال ہے کہ چونکہ ہندو کا مطلب اس ملک کی اور یہاں کے کلچر کی شناخت ہے اس لئے یہاں بسنے والا ہر شہری ہندو ہے ۔ تاہم آج ملک میں جو حالات پید اہوگئے ہیں اور ہندو ۔ مسلمان دو مِذاہب میں بانٹ دئے گئے ہیں۔ ایک قوم کا تاثر ختم کرنے کی ہر گوشے سے کوشش ہو رہی ہے ۔ کوئی کہتا ہے کہ یہ ہندو راشٹر ہے اور یہاں مسلمانوں کو رہنے کا کوئی حق نہیں ہے ۔ کوئی کہتا ہے کہ مسلمانوں کو یہاں سے پاکستان چلے جانا چاہئے ۔ کوئی کہتا ہے کہ کوئی مخصوص مذہبی نعرے لگانے والے ہی ہندوستان میں مقیم رہ سکتے ہیں اور ایسے عناصر کو سنگھ کی مکمل تائید حاصل رہتی ہے ۔ موہن بھاگوت ایسے بیانات دینے والوں پر لگام کسنے کی کوئی کوشش نہیں کرتے بلکہ خود سنگھ یا پھر اس سے وابستہ تنظیمیں ایسے عناصر کی کھلے عام اور راست حوصلہ افزائی کرتی ہیں۔ موہن بھاگوت نے ممبئی میں مسلم دانشوروں سے ملاقات کی اور یہ ریمارکس کئے ۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں مذہب کی نہیں بلکہ قوم کی اجارہ داری ہونی چاہئے ۔
ویسے تو موہن بھاگوت مسلسل کچھ نہ کچھ بیان بازی کرتے رہتے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہندو راشٹر کا مطلب یہ نہیں کہ یہاں مسلمانوں کیلئے کوئی جگہ نہیں ہے ۔ جس دن ملک میں مسلمانوں کیلئے کوئی جگہ نہیں رہے گی اسی دن ہندوتوا بھی ختم ہوجائیگا ۔ ہندوتوا کا مطلب یہ ہے کہ ساری دنیا ایک خاندان ہے ۔ یہ بیان بازی ویسے تو عام مسلمانوں کیلئے میٹھے بول کے مترادف ہی ہے لیکن آج ملک میں حقیقت اور صورتحال بالکل اس کے برعکس پائی جاتی ہے ۔ مسلمانوں کے خلاف ہر گوشے سے زہر افشانی ہو رہی ہے ۔سازشیں ہو رہی ہیں۔ انہیں شہری تسلیم کرنے سے انکار کیا جا رہا ہے ۔ انہیں ووٹ کے حق سے محروم کرنے کی بات ہو رہی ہے ۔ انہیں دوسرے درجہ کاشہری بنایا جا رہا ہے ۔ انہیں پاکستان چلے جانے کو کہا جا رہا ہے ۔ انہیں کاٹنے اور مارنے کی دھمکیاں کھلے عام دی جا رہی ہیں۔ ایک طرف یہ سب کچھ ہو رہا ہے لیکن دوسری طرف موہن بھاگوت یہ کہتے ہیں کہ ہندوستان میں مسلمانوں کیلئے بھی جگہ ہے ۔ یہ در اصل مسلمانوں کو بیوقوف بنانے کی کوشش ہے ۔ ایک طرف انہیں میٹھے الفاظ سے خوش کیا جا رہا ہے تو دوسری طرف معمولی سے بہانے پر انہیں پیٹ پیٹ کر سر عام ہلاک کیا جا رہا ہے ۔ ایسے جنونی قاتلوں کو خود سنگھ سے متعلق تنظیمیں مدد کر رہی ہیں۔ ان کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے ۔ ان کیلئے قانونی جدوجہد کی جا رہی ہے ۔ انہیں عدالتوں سے ضمانتیں دلائی جا رہی ہیں اور ضمانتوں کے بعد مرکزی وزراء تک ان کو تہنیت پیش کر رہے ہیں۔
جہاں تک ہندو راشٹر کی بات ہے تو اس ملک میں کسی کو یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ ملک کے سکیولر کردار کو تبدیل کرسکے ۔ ہمارے مجاہدین آزادی اور ہمارے قومی قائدین نے بے تکان جدوجہد اور بے تحاشہ قربانیوں کے ذریعہ ہمیں ایک آزاد ہندوستان حوالے کیا ہے ۔ انہوں نے ہندوستان کے مستقبل کو ذہن میں رکھتے ہوئے اس کے سکیولر ہونے کا فیصلہ کردیا تھا ۔ ایک دستور بنادیا تھا اور دستور میں سکیولر ازم ہی سب سے اہمیت کی بات ہے ۔ آج بھی ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اسی دستورکے مطابق اور ہمارے قومی قائدین کی خواہشات کے مطابق ملک کو آگے بڑھائیں اور سکیولر کردار کوکسی بھی قیمت پرمتاثر ہونے نہ دیا جائے ۔