نئی دہلی، 2 جولائی (یو این آئی) کانگریس نے مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ موہن یادو پر اجین اراضی معاملے کے گھوٹالے کے الزامات کو انتہائی سنگین قرار دیتے ہوئے معاملے کی عدالتی جانچ کرانے ، جانچ مکمل ہونے تک وزیر اعلیٰ کے عہدے سے ہٹنے اور پورے معاملے پر جواب دینے کا مطالبہ کیا ہے ۔ کانگریس لیڈر اور مدھیہ پردیش کے سابق ایم ایل اے پروین پاٹھک نے جمعرات کو یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس میں کہا کہ مسٹر یادو پر زمین گھوٹالے کے سنگین الزامات لگے ہیں، لیکن 10 دن گزر جانے کے بعد بھی بی جے پی قیادت نے اس پر کوئی ردعمل نہیں دیا ہے ۔ جس مدھیہ پردیش کو کبھی خوشحال اور قابل فخر ریاست سمجھا جاتا تھا، اسے بی جے پی کے دو دہائیوں کے دور حکومت میں بدعنوانی اور گھوٹالوں نے داغدار کر دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مدھیہ پردیش اب نہ صرف آر ایس ایس کی بلکہ بدعنوانی کی بھی ورکشاپ بن گیا ہے ۔ ویاپم گھوٹالے سے ریاست کے نوجوانوں کی ایک پوری نسل متاثر ہوئی اور اب اجین اراضی معاملے نے طرز حکومت پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ میڈیا رپورٹوں میں مسٹر یادو، ان کے خاندان اور ان سے وابستہ لوگوں کے نام پر بڑے پیمانے پر زمین کی خریداری کے حقائق سامنے آئے ہیں۔ سوال صرف زمین کی خریداری کا نہیں ہے بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ اقتدار، سرکاری فیصلوں اور ترقیاتی پروجیکٹوں سے جڑی خفیہ معلومات کا استعمال ذاتی فائدے کے لیے کیا گیا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر الزامات غلط ہیں اور ایسا نہیں ہوا تو وزیر اعلیٰ اتنے دنوں سے ان الزامات پر خاموش کیوں ہیں۔ پاٹھک نے کہا کہ کانگریس کا مطالبہ ہے کہ اجین اراضی معاملے کی ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ کے جج کی نگرانی میں جانچ کرائی جائے ۔