کلکٹریٹ سرسلہ پولیس چھاؤنی میں تبدیل، وعدوں کو پورا کرنے کے سی آر سے مطالبہ، مختلف قائدین کا خطاب
گمبھی راؤ پیٹ۔/31جولائی، ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) مڈ مانیر پراجکٹ متاثرین نے اپنے درپیش مسائل کی یکسوئی اور چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی جانب سے کئے گئے وعدوں کو پورا کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے سرسلہ کلکٹریٹ کا نہ صرف گھیراؤ کیا بلکہ زبردست احتجاجی مظاہرہ بھی کیا گیا۔ واضح رہے کہ مڈ مانیر پراجکٹ متاثرین کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے آج پراجکٹ کی تعمیر کی زد میں آنے والے متاثرین ہنوز آج تک حکومت کی امداد کے منتظر ہیں کے ساتھ بوئن پلی کے موضع نیراج پلی تا سرسلہ کلکٹریٹ 15 کیلو میٹر طویل پیدل یاترا کے ذریعہ مہا آندولن کے نام پر احتجاجی مظاہرہ کا اعلان کیا تھا۔ جس کی وجہ آج صبح کے اوقات کار سے ہی سرسلہ کلکٹریٹ کو پولیس چھاؤنی میں تبدیل کردیا گیا۔ اس مہا آندولن احتجاجی مظاہرہ میں پراجکٹ کی تعمیری زد میں آنے والے 11 مواضعات کے متاثرین نے حصہ لیا جو ہزاروں کی تعداد میں تھے جنہوں نے مخالف حکومت نعرے بازی، ہمارے ساتھ انصاف کرو، جیسے مطالبات کے ذریعہ کلکٹریٹ کی سمت بڑھنے کی کوشش کررہے تھے۔ اس مہا آندولن احتجاجی مظاہرے میں سابق رکن پارلیمنٹ کریم نگر پونم پربھاکر گوڑ، سابق رکن اسمبلی چیویڈنڈی بی شوبھا، آدی سرینواس، کے کے مہیندر ریڈی کے علاوہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے قائدین نے بھی شرکت کی۔ اس احتجاجی آندولن کو پونم پربھاکر گوڑ نے مخاطب کرتے ہوئے چیف منسٹر کے چندرا شیکھر راؤ پر وعدہ خلافی کا الزام عائد کیا اور کہا کہ مڈ مانیر کی تعمیر کے دوران علاقہ کے تقریباً 11 مواضعات متاثر ہوگئے جہاں کے قیام پذیر افراد خاندان نے اپنے مکانات گھر بار جائیداد سب کچھ قربان کردیا۔ ان متاثرین کو چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے مکانات کی تعمیر کیلئے پانچ لاکھ روپئے سے زائد رقم منظوری کرنے اور متاثرین میں 18 سالہ عمر پانے والے ہر لڑکے اور لڑکی کو دو لاکھ روپئے کی مالی امداد اور اراضی پٹہ کا بھی وعدہ کیا تھا لیکن ان کے وعدے وفا نہ ہوئے اور برفدان کی نذر ہوگئے۔ کانگریس قائدین پونم پربھاکر گوڑ کے علاوہ ایم ایل سی ٹی جیون ریڈی اور دیگر نے خطاب کیا۔