امریکہ کیلئے ایران کی تین مراحل پر مبنی تجویز ۔ پاکستان نے واشنگٹن کو واقف کروادیا ۔ امریکہ کا غور کا اشارہ
تہران 27 اپریل ( ایجنسیز) مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے درمیان ایران نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی بحالی کیلئے سفارتی پیشکش کی ہے، جس میں جنگ بندی، آبنائے ہرمز کی بحالی اور جوہری پروگرام پر مرحلہ وار بات چیت شامل ہے ۔ یہ تجویز پاکستانی ثالثوں کے ذریعے واشنگٹن تک پہنچائی گئی ۔ذرائع کے مطابق ایران نے واضح کیا کہ موجودہ بحران کا فوری حل سمندری راستوں کی بحالی اور کشیدگی میں کمی سے جڑا ہے۔ اسی لیے ابتداء میں آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی بحالی اور طویل مدتی جنگ بندی کو ترجیح دی گئی ہے، جبکہ جوہری مذاکرات کو بعد کے مرحلے تک مؤخر رکھنے کی تجویز ہے۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بتایا کہ ایران میں اس بات پر مکمل اتفاق رائے نہیں کہ امریکہ کے جوہری مطالبات کو کس حد تک قبول کیا جائے۔ ڈونالڈٹرمپ کی قیادت میں امریکی پالیسی ساز حلقے اس تجویز کا جائزہ لے رہے ہیں، تاہم وائٹ ہاؤس سے کوئی حتمی مؤقف سامنے نہیں آیا۔ امریکی حکام نے پھر واضح کیا کہ کسی بھی معاہدے کی بنیادی شرط ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہوگی۔ سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹرمپ نے قومی سلامتی ٹیم کے ساتھ ایک اہم اجلاس طلب کیا جس میں ایران سے متعلق مختلف آپشنز پر غور کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایران مذاکرات چاہتا ہے تو براہ راست رابطہ ممکن ہے، مگر جوہری معاملے پر کوئی رعایت نہیں دی جائے گی۔ایران نے مذاکرات کی بحالی کو تین واضح مراحل سے مشروط کیا ، جن میں ہر مرحلہ اگلے مرحلے کی بنیاد بنے گا۔پہلا مرحلہ جنگ کا خاتمہ ، اس میں ایران نے فوری جنگ بندی، امریکی اور اتحادی کارروائیوں کے خاتمے اور مستقبل میں دوبارہ جارحیت نہ ہونے کی ضمانت کا مطالبہ کیا ہے۔ تہران کے مطابق اس دوران کسی اور معاملے پر بات نہیں ہوگی ۔ دوسرا مرحلہ آبنائے ہرمز کی بحالی ہے ۔ اس مرحلے میں توجہ آبنائے ہرمز پر ہوگی ۔ ایران چاہتا ہے کہ امریکی بحری ناکہ بندی ختم کی جائے اور عمان کے ساتھ اس کے انتظام کا نیا طریقہ طے کیا جائے، تاکہ تیل و گیس کی ترسیل بحال ہو سکے ۔ تیسرا مرحلہ جوہری مذاکرات، آخری مرحلے میں ایران اپنے جوہری پروگرام پر بات چیت کیلئے آمادگی ظاہر کرتا ہے، مگر اس کی شرط ہے کہ پہلے دومراحل کامیابی سے مکمل ہوں۔ امریکہ مسلسل یہ مطالبہ کرتا رہا ہے کہ ایران یورینیم افزودگی محدود کرے اور اپنے ذخائر کو بیرون ملک منتقل کرے ۔