مہاراج کی ہیٹ ٹرک ‘ افریقہ 2-0 سے کامیاب

   

گراس آئیلیٹ۔ بائیں ہاتھ کے اسپنر کیشو مہاراج کی ہیٹ ٹرک کی بدولت جنوبی افریقہ نے ویسٹ انڈیز کو دوسرے ٹسٹ میں 158 رنز سے شکست دیتے ہوئے دو مقابلوں کی سیریز کو 2-0 سے اپنے نام کرلیا۔ ویسٹ انڈیز کو دوسرے ٹسٹ میں کامیابی اور سیریز کو مساوی کرنے کے لئے 324 رنز کا نشانہ ملا تھا لیکن ساری ٹیم دوسری اننگز میں بھی خاطر خواہ بیٹنگ مظاہرہ نہیں کر پائی اور 165 رنز پر ڈھیر ہوگئی۔ کیشو مہاراج نے ہیٹ ٹرک لیتے ہوئے جنوبی افریقہ کو 4 برسوں کے دوران ملک سے باہر پہلی سیریز کی کامیابی میں کلیدی کردار ادا کیا۔ جنوبی افریقہ جس نے آخری مرتبہ مارچ 2017 میں نیوزی لینڈ کو شکست دی تھی۔ مہاراج جنوبی افریقہ کی جانب سے ٹسٹ میں ہیٹ ٹرک لینے والے دوسرے بولر بنے ہیں۔ مہاراج نے دوسری اننگز میں 36 رنز دے کر 5 وکٹیں حاصل کیں۔ ان کی شاندار بولنگ کی بدولت جنوبی افریقی ٹیم نے چوتھے دن چائے کے وقفہ سے 33 منٹ قبل ہی مقابلہ اور سیریز اپنے نام کرلی ہے۔ ٹیم کے سابق وکٹ کیپر مارک باؤچر کے کوچ بننے کے بعد یہ چوتھی سیریز میں دوسری کامیابی ہے۔ باؤچر نے دسمبر 2019 میں ٹیم کی کمان سنبھالی ہے۔ قبل ازیں ویسٹ انڈیز کو اس مقابلہ میں کامیابی اور سیریز کو برابر کرنے کے لئے 324 رنز کا نشانہ ملا تھا لیکن افریقی بولروں نے صبح سے ہی وکٹیں حاصل کرنے کا سلسلہ شروع کیا جیسا کہ کگیسو ربادا نے مہاراج کا جادو شروع ہونے سے قبل پہلی تین وکٹیں حاصل کرلی تھیں۔ مہاراج نے مقابلہ کے 37 ویں اور دن میں ان کے 8 ویں اوور میں ہیٹ ٹرک مکمل کی جیسا کہ سب سے پہلے انہوں نے کیرن پاول کو آؤٹ کیا جس کے بعد دو گیندوں میں جیسن ہولڈر اور جوشوا ڈسلوا کو پویلین کی راہ دکھائی۔ روسٹن چیس زخمی ہونے کی وجہ سے بیٹنگ نہیں کر پائے اس طرح افریقی ٹیم کو کامیابی کے لئے صرف 9 وکٹیں حاصل کرنی پڑیں۔ مہاراج نے اس مقابلہ میں 7 ویں مرتبہ کیریئر کی پانچ وکٹیں حاصل کی ہیں۔ دوسری جانب ویسٹ انڈیز کی یہ تیسری گھریلو سیریز کی شکست ہے کیونکہ وہ گزشتہ 3 سیریزوں میں کوئی کامیابی حاصل نہیں کر پائی۔ چوتھے دن کی صبح ربادا اور اینریچ نے بولنگ کا آغاز کیا اور ابتداء سے ہی حریف بیٹسمینوں کو پریشان کرنا شروع کیا۔ اینڈریچ نے ویسٹ انڈیز کے کپتان گریک براتھویٹ کو بولڈ کیا۔ براتھویٹ کے ناقص فام کا سلسلہ جاری رہا جیسا کہ وہ گزشتہ 4 ٹسٹ مقابلوں میں صرف 28 رنز اسکور کرپائیں ہیں جبکہ 15 ان کا اعظم ترین اسکور رہا۔ علاوہ ازیں پہلی وکٹ کے لئے ان کی اوسط 8.14 رہی جو کہ ویسٹ انڈیز کی ٹسٹ تاریخ میں اوپنرس کا سب سے ناقص مظاہرہ ہے۔ اس کے بعد ربادا نے ٹیم کے امید شائی ہوپ کو سکنڈ سلپ میں ایڈن مارکم کے ہاتھوں کیچ آؤٹ کروایا۔ ربادا کو اس کے بعد اگلی گیند میں کائل میئرس کی وکٹ بھی مل جاتی جیسا کہ انہوں نے میزبان بیٹسمین کو ایل بی ڈبلیو آؤٹ کیا لیکن ان کا پیر کریس سے آگے نکل چکا تھا۔ اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انہوں نے پاویل کے ہمراہ 64 رنز کی پارٹنرشپ نبھاتے ہوئے ویسٹ انڈیز کی امیدوں کو برقرار رکھا۔ ربادا کی ایک گیند کو پل کرنے کی کوشش میں وہ سلپ میں ایلگر کی جانب سے دوڑ لگاکر کیاچ پکڑنے کے بعد آؤٹ ہوئے۔ ویسٹ انڈیز کے لئے پاویل نے نصف سنچری اسکور کرتے ہوئے ٹیم کی ایک اور شکست کو ٹالنے کی کوشش کی لیکن ان کی یہ کوشش بھی زیادہ دیر نہیں رہی اور انہوں نے اکتوبر 2018 کے بعد اپنا پہلا اعظم ترین اسکور بنایا۔ پاویل نے 116 گیندوں میں 9 چوکوں کی مدد سے 51 رنز اسکور کئے جبکہ کائل میئرس نے 56 گیندوں میں 4 چوکوں کی مدد سے 34 رنز بنائے۔ لوور آرڈر میں بلیک ووڈ نے 25 رنز اور کیمر روچ نے 27 رنز اسکور کئے۔ مہاراج کے بعد ربادا دوسرے کامیاب بولر ثابت ہوئے جنہوں نے 44 رنز کے عوض 3 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ شاندار بولنگ پر ربادا کو مقابلہ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا جبکہ وکٹ کیپر بیٹسمین کوئنٹن ڈیکاک کو سیریز کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔ سیریز میں ویسٹ انڈیز کے مظاہرے انتہائی مایوس کن رہے حالانکہ چند کھلاڑیوں نے انفرادی طور پر بہتر مظاہرہ کیا۔