مہاراشٹرا اتحاد ‘ توڑ جوڑ کے اندیشے

   

دل آرزوئے شوق کا اظہار نہ کردے
ڈرتا ہوں مگر یہ کہ وہ انکار نہ کردے
مہاراشٹرا میں بلدیاتی انتخابات مکمل ہوچکے ہیں۔ نتائج کا اعلان ہوچکا ہے ۔ ملک کی سب سے دولتمند کارپوریشن برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن میں کسی بھی پارٹی کو تنہا اقتدار حاصل نہیاں ہوا ہے حالانکہ بی جے پی سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری ہے ۔ دوسرے نمبر پر ادھو ٹھاکرے کی شیوسینا ہے جس نے اپنا حلقہ اثر برقراررکھا ہے ۔ شیوسینا شنڈی گروپ نے بھی ٹھیک ٹھاک کامیابی حاصل کی ہے اور اب ممبئی بلدیہ پر قبضہ کی جنگ شروع ہوگئی ہے ۔ بی جے پی اپنے لئے ممبئی میونسپل کارپویشن کے مئیر کا عہدہ حاصل کرنا چاہتی ہے جبکہ یہ تاثر مل رہا ہے کہ شنڈے یہ عہدہ اپنی پارٹی کیلئے حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ جہاں تک انتخابات کا سوال ہے تو یہ بات واضح طور پر دیکھنے میں آئی ہے کہ مہایوتی کی اتحادی جماعتوں نے ایک دوسرے کے خلاف بھی مقابلہ کیا تھا اور ایک دوسرے کی مخالف جماعتوں کے ساتھ اتحاد بھی کیا تھا ۔ یہ تاثر پہلے ہی سے ملنے لگا تھا کہ مہایوتی اتحاد میں سب کچھ ٹھیک نہیں ہے اور ان میں اختلاف رائے عام ہوگیا ہے ۔ مہاراشٹرا بلدیاتی انتخابات میں ایک بات واضح ہوگئی ہے کہ اجیت پوار کی این سی پی کو اتنی عوامی تائید نہیں مل پائی ہے جتنی کہ اسے امید تھی ۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اجیت پوار کو اتحادی جماعتوں نے ہی حاشیہ پر لا کھڑا کیا ہے اور ان کی کامیابی کو باضابطہ طور پر روکا گیا ہے ۔ اس کے برخلاف شیوسینا شنڈے گروپ اور بی جے پی کو زیادہ عوامی تائید حاصل ہوئی ہے ۔ کل نتائج کے اعلان کے بعد آج ڈپٹی چیف منسٹر ایکناتھ شنڈے نے اپنے نومنتخب کارپوریٹرس کو ممبئی کی ایک فائیو اسٹار ہوٹل کو منتقل کردیا ہے ۔ کہا جا رہا ہے کہ کارپوریٹرس کی خرید و فروخت کو روکنے کیلئے ایسا کیا گیا ہے اس کے علاوہ شنڈے مئیر کے عہدہ کیلئے شیوسینا کے ساتھ مول بھاؤ کرنے کی منصوبہ بندی بھی کر رہے ہیں ۔ شنڈے گروپ چاہتا ہے کہ چونکہ اس سے چیف منسٹر کا عہدہ واپس لے لیا گیا ہے اس لئے اس کو ممبئی مئیر کا عہدہ حاصل ہوسکے تاہم بی جے پی کسی بھی قیمت پر مئیر کا عہدہ شنڈے گروپ کو دینے تیار نہیں ہے ۔ بی جے پی کو احساس ہے کہ ممبئی مئیر کا عہدہ اس کیلئے اپنی کامیابی کے جشن سے زیادہ اہم ہے اور وہ پہلی بار یہ عہدہ حاصل کرنا چاہتی ہے اور اس کیلئے وہ بھی توڑ جوڑ سے گریز نہیں کرے گی ۔
ایکناتھ شنڈے مہاراشٹرا کے ڈپٹی چیف منسٹر ہیں۔ حکومت میں ان کی جماعتحصہ دار ہے ۔ بی جے پی ان کی حلیف جماعت ہے ۔ بی جے پی نے ہی شنڈے کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے انہیں مہاراشٹرا کا چیف منسٹر بھی بنا دیا تھا ۔ اس کے باوجود شنڈے کو یہ اندیشے ضرور لاحق دکھائی دیتے ہیں کہ بی جے پی ان کے نومنتخب کارپوریٹرس کو خریدنے کی کوشش کرسکتی ہے ۔ انہیں پارٹی سے توڑنے کے اقدامات کئے جاسکتے ہیں۔ انہیں بی جے پی کی تائید کیلئے رضامند کیا جاسکتا ہے ۔ اس کیلئے انہیں کچھ لالچ بھی دی جاسکتی ہے ۔ اس سے بی جے پی کی توڑ جوڑ کی سیاست کا پتہ چلتا ہے جو وہ سارے ملک میں انجام دیتی رہی ہے ۔ کئی ریاستوں میں بی جے پی نے کانگریس کی حکومتوں کو ارکان اسمبلی کو خریدتے ہوئے اقتدار سے بیدخل کرنے اور خود اقتدار پر فائز ہونے میں کامیابی حاصل کرلی تھی ۔ خود مہاراشٹرا میں بی جے پی نے شیوسینا اور این سی پی میں پھوٹ ڈالتے ہوئے ادھو ٹھاکرے کی زیر قیادت اتحادی حکومت کو زوال کا شکار کردیا تھا اور خود حکومت میںشامل ہوگئی تھی اور شنڈے کو چیف منسٹر کا عہدہ پیش کردیا گیا تھا ۔ بی جے پی کو اب یہ احساس بھی ہوچلا ہے کہ وہ مہاراشٹرا کی سیاست پر اپنی گرفت بنا چکی ہے اور وہ اب کوئی بھی عہدہ دوسری جماعتوں کو دینے تیار نہیں ہے چاہے وہ اپنی حلیف جماعت ہی کیوں نہ ہو ۔ جس طرح سے ارکان اسمبلی کو خریدا گیا تھا اور انہیں انحراف کیلئے رضامند کیا گیا تھا وہی اندیشے کارپوریشن میں بھی ظاہر کئے جا رہے ہیں اور اس کا اشارہ کسی اور سے نہیں بلکہ خود ریاست کے ڈپٹی چیف منسٹر کے اقدام سے ملنے لگا ہے ۔
ممبئی میونسپل کارپوریشن کا مئیر کون بنے گا یہ تو ابھی سے کہنا قبل از وقت ہوگا کیونکہ اتحادی جماعتوں بی جے پی اور شیوسینا میں بات چیت ہونی ہے ۔ در پردہ مذاکرات شروع کردئے گئے ہیں تاہم بات چیت اور اس کے نتیجہ کے منظر عام پر آنے میں کچھ وقت لگے گا ۔ تاہم شیوسینا شنڈے گروپ کے اقدام سے یہ واضح ہوگیا ہے کہ اتحادی جماعت ہونے کے باوجود بھی شیوسینا شنڈے گروپ کو بی جے پی پر بھروسہ نہیں رہ گیا ہے ۔ وہ ان اندیشوں کا شکار ہے کہ اس کے نو منتخب کارپوریٹرس کو بھی توڑا جاسکتا ہے ۔ انہیں بھی انحراف کیلئے تیار کیا جاسکتا ہے اور لالچ دی جاسکتی ہے ۔ یہ ہندوستانی سیاست کا ایک ایسا منفی پہلو ہے جو بہت عام ہوگیا ہے ۔ اگر خود حلیف جماعتیں ایک دوسرے پر بھروسہ کرنے تیار نہیں ہیں تو بی جے پی کی سیاسی فطرت کا اندازہ لگانا زیادہ مشکل نہیں ہے کہ وہ کس طرح سیاسی اجارہ داری حاصل کرتی ہے ۔
غزہ امن منصوبہ کا دوسرا مرحلہ
غزہ میں قیام امن کیلئے امریکی منصوبہ کے دوسرے مرحلہ کی شروعات کا دعوی کیا جا رہا ہے ۔ اس سلسلہ میں ایک پندرہ رکنی ٹیکنو کریٹس کی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو جنگ کے بعد غزہ کے روز مرہ امور کی نگران ہوگی ۔ اس کا پہلا اجلاس قاہرہ بھی منعقد بھی ہوچکا ہے ۔ امریکہ نے اس امن منصوبے کے دوسرے مرحلہ کی شروعات کا اعلان کیا ہے ۔ پہلے مرحلے میںج نگ بندی پر عمل کیا گیا تھا تاہم حقیقت یہ ہے کہ جنگ بندی کے باوجود اسرائیل کی ظالمانہ کارروائیاں جاری ہیں۔ اسرائیل جب چاہے فضائی حملے کر رہا ہے اور غزہ میں انسانی بنیادوں پر امداد رسانی کے عمل میں بھی رکاوٹیں پیدا کی جا رہی ہیں۔ غزہ کے عوام کو دو وقت کی روٹی تک سکون کے ساتھ دستیاب نہیں ہے اور نہ ہی وہاں دواخانے بحال کئے جا رہے ہیں۔ دوسرے مرحلہ میںضروری ہے کہ غزہ کی تعمیر جدید پر توجہ دی جائے ۔ غزہ کو جو ملبہ کے ڈھیر میں تبدیل کردیا گیا ہے اس صورتحال کو بدلا جائے ۔ مغربی کنارہ کے تعلق سے اسرائیل کے عزائم پر بھی روک لگائی جائے ۔ یہودی نو آبادیات کے قیام کا سلسلہ روکا جائے ۔ غزہ کے عوام کیلئے انسانی بنیادوں پر امداد رسانی میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا جائے ۔ دواخانوں کو بحال کرنے پر توجہ دی جائے اور اسرائیل کے حملوں کا سلسلہ بند کیا جائے ۔ اس کے بغیر دوسرے مرحلہ کی کامیابی کے تعلق سے شبہات برقرار رہیں گے ۔ ان کاموں کی ذمہ داری امریکہ پر عائد ہوتی ہے ۔