مہاراشٹرا اتحاد کا استحکام ضروری

   

Ferty9 Clinic

مہاراشٹرا میں مہا وکاس اگھاڑی میں وقفہ وقفہ سے ایسا لگتا ہے کہ کچھ جھٹکے محسوس کئے جاتے ہیں اوربعد میں پھر سب کچھ ٹھیک ہوجاتا ہے یا پھر ٹھیک کردیا جاتا ہے ۔جس طرح سے نظریاتی دوری والی سیاسی جماعتوں کو شرد پوار نے ایک جٹ کیا تھا یہ ان کا ہی کارنامہ تھا ۔ شرد پوار کی اس کامیاب کوشش نے ملک کی سیاست پرا یک چھاپ ضرور چھوڑی تھی ۔ حالانکہ یہ اتحاد ایک طرح سے کمزور بھی تھا اور اس کے تعلق سے کچھ اندیشے بھی ظاہر کئے جا رہے تھے لیکن ابھی تک اس اتحاد نے مہاراشٹرا میں اچھا کام ہی کیا ہے ۔ حالانکہ کچھ وقتوں میں اس اتحاد کو توڑنے کی کوششیں بھی ہوئی ہیں۔ کچھ گوشوں کی جانب سے جو تبصرے اور ریمارکس کئے جا رہے ہیں ان کو زیادہ اہمیت دینے سے گریز کرتے ہوئے حکومت اپنے کام کاج کو جاری رکھے ہوئے ہے ۔ مہاراشٹرا میں ادھو ٹھاکرے کی زیر قیادت حکومت کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ انتہائی مشکل ترین اوقات میں بھی حکومت نے ٹھیک ٹھاک کام ہی کیا ہے ۔ اگر اس حکومت نے کوئی بڑا کارنامہ انجام نہیںدیا ہے لیکن اس حکومت نے مشکل ترین اور بحران کے وقت میں بھی عوام کی توقعات کو ضرور پورا کیا ہے ۔کورونا کی جو شدت مہاراشٹرا میں دیکھی گئی تھی اس سے ادھو ٹھاکرے نے بہتر انداز میںنمٹا ہے اور اس پر قابو پانے کیلئے موثر اور سخت فیصلے بھی کئے تھے ۔ حکومت کو کارکردگی کے معاملے میں کسی تنقید یا مخالفت کا سامنا نہیں ہے ایسے میں اس کے استحکام کو متاثر کرنے کی مختلف گوشوں سے کوششیں کی جا رہی ہیں۔ خود اتحادی جماعتوں کے کچھ ارکان اسمبلی اور قائدین کی جانب سے بھی کچھ تبصرے اور ریمارکس ایسے کئے جا رہے ہیں جن سے حکومت کے اور اس اتحاد کے استحکام پر سوال پیدا ہونے لگتے ہیں۔ ضر ورت اس بات کی ہے کہ اس طرح کے ریمارکس اور بیانات سے سبھی اتحادی جماعتوں کے قائدین گریز کریں۔ اتحاد اور حکومت کے استحکام پر سبھی جماعتوں اور ان کے قائدین کو توجہ کرنے کی ضرورت ہے ۔ اپوزیشن کو حکومت کے استحکام پر مسائل پیدا کرنے کا موقع فراہم نہیں کیا جانا چاہئے ۔
ملک بھر میں جو سیاسی حالات پیدا ہورہے ہیں ان کو دیکھتے ہوئے مہاراشٹرا کے اس تین جماعتی اتحاد کو مستحکم رکھنا بہت ضروری ہے ۔ خاص طور پر ایسے وقت میں جبکہ ملک کی پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں ان میں پنجاب اور اترپردیش جیسی اہم ریاستیں بھی شامل ہیں۔ اتر پردیش میں بی جے پی کیلئے حالات سازگار نہیں ہیں۔ این سی پی کے سربراہ شرد پوار اترپردیش میں بھی اپوزیشن جماعتوںکو مستحکم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس سلسلہ میںانہوںنے حکمت عملی کے ماہر پرشانت کشور کے ساتھ ملاقاتیں بھی کی ہیں۔ شرد پوار کی ان کوششوں کی کامیابی کیلئے ضروری ہے کہ مہاراشٹرا میں سکون رہے ۔ پنجاب میں کانگریس کیلئے مسائل پیدا کرنے کی کوششیں تیز ہو رہی ہیں اسی طرح بی جے پی کیلئے چیلنج بننے والی جماعتوں کو ان کے اپنے داخلی اختلافات اور مسائل کا شکار کرنے کی حکمت عملی پر کام کیا جا رہا ہے ۔ اگر مہاراشٹرا میں بھی سیاسی صورتحال بگڑتی ہے تو بی جے پی ملک کی پانچ ریاستوں میں اور پھر بعد میں قومی سطح پر اس کا فائدہ اٹھاسکتی ہے ۔ شرد پوار کے ملک کی تقریبا تمام سیاسی جماعتوں اور ان کے قائدین سے بہترین روابط ہیں۔ ان کا ایک مقام اور مرتبہ سیاسی حلقوں میں ہے ۔ ان کے مخالفین بھی اس کا اعتراف کرتے ہیں۔ وہ اپنے اسی سیاسی اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے اپوزیشن کی صفوں میں اتحاد پیدا کرسکتے ہیں۔ اس کیلئے شرط یہی ہے کہ مہاراشٹرا میں سیاسی صورتحال کو متاثر ہونے کا موقع فراہم نہ کیا جائے ۔
مہاراشٹرا میںتین جماعتوں کے اتحاد کی حکومت اگر اپنی معیاد مکمل کرتی ہے تو اس کے دور رس اثرات ہوسکتے ہیں۔ جس طرح سے مغربی بنگال میں ممتابنرجی کی شاندار کامیابی نے اپوزیشن کو حوصلہ بخشا ہے اسی طرح مہاراشٹرا کی اتحاد حکومت کا استحکام بھی دوسری جماعتوں کیلئے حوصلے کا باعث ہوسکتا ہے۔ جس طرح سے ادھو ٹھاکرے کی زیر قیادت حکومت اب تک کام کرتی رہی ہے اسے اپنی معیاد کی تکمیل کا موقع فراہم کیا جانا چاہئے ۔ شرد پوار کے سیاسی قلعہ کو مضبوط اور مستحکم رکھتے ہوئے بی جے پی سے مقابلہ کی تیاریاں کی جاسکتی ہیں۔ شیوسینا ہو یا این سی پی ہو یا پھر کانگریس ہو سبھی کو اپنے معمولی مفادات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے قومی مفادات کی خاطر اس اتحاد کو مستحکم رکھنے ہر ممکن جدوجہد کی ضرورت ہے ۔