کوئی تم سا بھی کاش تم کو ملے
مدعا ہم کو انتقام سے ہے
ہندوستان رواداری والا ملک کہا جاتا رہا ہے ۔ یہاںاختلاف رائے کا احترام کیا جاتا تھا ۔ کسی سے اختلاف کو دشمنی کی شکل نہیں دی جاتی تھی ۔ اختلاف رائے رکھنے والوں کو عزت کی نظر سے دیکھا جاتا تھا ۔ اظہار خیال کی آزادی ہوا کرتی تھی ۔ تاہم حالیہ وقتوں میں صورتحال بہتتیزی سے تبدیل ہوتی نظر آ رہی ہے ۔ کسی کے تعلق سے اگر تنقید کی جائے تو پھر انتقامی کارروائی کیلئے تیار رہنے کی نوبت آگئی ہے ۔ ملک میں ایسی کئی مثالیں موجود ہیں جہاں حکومتوں یا پھر سیاستدانوں کے تعلق سے لب کشائی کرنے پر کارروائیوں کا نشانہ بنایا گیا ہے ۔ سرکاری ادارے سیاسی قائدین اور حکمرانوں کی کٹھ پتلی بن کر کام کرنے لگے ہیں اور انہیںاصول و ضوابط کا کوئی پاس و لحاظ نہیں رہ گیا ہے ۔ سیاسی قائدین کا جہاں تک سوال ہے وہ اپنے آپ کو الگ ہی دنیا کی مخلوق سمجھنے لگے ہیں اور انہیں نشانہ بنائے جانے پر برداشت کا مادہ ختم ہونے لگا ہے اور وہ سیدھے سیدھے انتقامی کارروائی پر اتر آنے لگے ہیں۔ حالیہ وقتوں میں دیکھا گیا تھا کہ وزیر اعظم نریندر مودی پر اگر تنقید کی جائے تو ایسا کرنے والوں کے خلاف ہر ممکنہ طریقے سے کارروائیںا کی جا رہی ہیں۔ کسی کو جیل بھیجا جا رہا ہے توکسی کے خلاف مقدمات درج کئے جا رہے ہیں۔ کسی کے گھر اور جائیداد کو نشانہ بنایا جا رہا ہے تو کسی کو کسی اور طریقہ سے تنگ کیا جا رہا ہے ۔ خاص طور پر اترپردیش میں یہ صورتحال عام ہوگئی تھی ۔ ریاستی یا مرکزی حکومت کو نشانہ بنانے پر سرکاری کارروائی یقینی ہوتی چلی گئی تھی ۔ اب یہی طریقہ کار مہاراشٹرا میں بھی پیدا ہوگئی ہے ۔ ڈپٹی چیف منسٹر ایکناتھ شنڈے کو طنز و تنقید کا نشانہ بنانے پر مزاح نگار کنال کامرا کے خلاف کارروائی شروع ہوگئی ہے اور جس اسٹوڈیو میں یہ ویڈیو شوٹ کیا گیا تھا اب وہاں انہدامی کارروائی شروع کردی گئی ہے ۔یہ واضح ثبوت اور مثال ہے کہ حکومتیں کس طرح سے انتقامی جذبہ کے تحت کام کر رہی ہیں اور تنقیدوں کو برداشت کرنے کیلئے وہ تیار ہی نظر نہیں آتیں۔ سیدھے انتقامی کارروائیوںکا آغاز کردیا جار ہا ہے ۔ یہ انتہائی افسوسناک صورتحال ہے جو مسلسل فروغ پاتی جا رہی ہے ۔
کنال کامرا کی تنقید اگر نامناسب بھی رہی ہو تو اس پر قانون کے مطابق کارروائی کی جاسکتی ہے یا پھر سیاسی قائدین فراخ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے درگذر سے بھی کام لے سکتے ہیں کیونکہ اس ملک میںہر ایک کو اظہار خیال کی آزادی کا حق حاصل ہے ۔ کئی گوشے ایسے ہیں جو اظہار خیال کی آزادی کے نام پر دوسرے مذاہب کی دلآزاری کرنے لگے ہیں ۔ اپنے عقیدہ کی دہائی دیتے ہوئے دوسرے کے عقیدوں کا اور مذہبی روایات کا مذاق بنایا جا رہا ہے ۔ اس پر کوئی کارروائی نہیںہوتی اور اگر کسی سیاسی لیڈر کے خلاف کوئی طنز بھی کردیا جاتا ہے تو اس کے خلاف کارروائی شروع کردی جاتی ہے ۔ ممبئی کا ایک اسٹوڈیو ہے جسے ہیبیٹاٹ اسٹوڈیو کہا جاتا ہے ۔ یہاںمختلف پروگرامس ہوا کرتے ہیں۔ یہاںفنکاروں اور مزاح نگاروںکو پلیٹ فارم فراہم کیا جاتا ہے ۔ یہاں کنال کامرا نے ایک ویڈیو شوٹ کیا تھا جس میںایکناتھ شنڈے کے خلاف تنقید کی گئی تھی ۔ اب کنال کامرا کے خلاف تو کارروائی شروع ہوئی ہی ہے لیکن اس اسٹوڈیو ہی کو نشانہ بنادیا گیا ہے اور اس کی انہدامی کارروائی شروع کردی گئی ہے ۔ حالانکہ اسٹوڈیو نے یہ واضح کردیا تھا کہ کنال کامرا کی تنقید سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے ۔ برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن کا دعوی ہے کہ یہاں غیر قانونی تعمیرات کی گئی تھیں اور یہ عارضی شیڈس ہیں جنہیں منہدم کیا جا رہا ہے ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا بی ایم سی کو اچانک ہی پتہ چلا کہ یہ غیر قانونی تعمیر ہے یا پھر اچانک ہی وہ خواب غفلت سے جاگا ہے ؟ ۔
سرکاری اداروں کو چاہئے کہ وہ سیاسی قائدین کی کٹھ پتلی کے طور پر کام کرنے کی بجائے قانون کے مطابق کام کیا جائے ۔ اس میں سیاسی وابستگیوں کا کوئی خیال نہ رکھا جائے ۔ سارے ممبئی میں ایسے سینکڑوں یا ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں کی تعداد میں غیرقانونی تعمیرات ہیں تاہم ان کو کبھی منہدم نہیں کیا جاتا ۔ کئی سیاسی قائدین کی تعمیرات بھی غیر مجاز ہیں لیکن اس تعلق سے بھی آنکھیں بند کرلی جاتی ہیں تاہم برسر اقتدار افراد کی کٹھ پتلی بن کر ان کے اشاروں پر ناچنے والے عہدیدار بھی قابل مذمت ہیں۔ ملک میں اس طرح کا انتقامی جذبہ قابل تشویش ہے اور اس طرح کی کارروائیاں کئی سوال پیدا کرنے کا موجب بن رہی ہیں۔