مسلم مخالف بیان : مسلم ویلفیر اسوسی ایشن کے قومی صدر سلیم سارنگ کا نائب وزیراعلیٰ اجیت پوار سے اظہار تشکر
ممبئی ، 12 اکتوبر (یو این آئی)مسلم ویلفیئر ایسوسی ایشن کے قومی صدر سلیم سارنگ نے نائب وزیر اعلیٰ اجیت دادا پوار کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ایم ایل اے سنگرام جگتاپ کے خلاف فوری اور منصفانہ کارروائی کے لیے حمایت کی اور اسے ایک مناسب اقدام قرار دیا۔ مسلم ویلفیئر ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری ایک اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ “ہماری رسمی نمائندگی کے بعد پارٹی نے رکن اسمبلی جگتاپ کو ان کے حالیہ اشتعال انگیز بیان کے لیے وجہ بتاؤ نوٹس جاری کرنے کا فیصلہ کیا، جس میں انہوں نے دیوالی کے دوران لوگوں کو صرف ہندو دکانداروں سے خریداری کرنے کی تاکید کی تھی” مسلم ویلفیئر ایسوسی ایشن نے اس فعل کو برادریوں کے درمیان تقسیم پیدا کرنے کی کوشش قرار دیا ہے ۔اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ “ہمیں پورا یقین ہے کہ پارٹی اس معاملے میں انصاف فراہم کرے گی اور سنگرام جگتاپ کے خلاف سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائے گی۔اس اعلامیہ میں اجیت دادا پوار کی مسلم کمیونٹی کے ساتھ کھڑے ہونے اور مساوات و سیکولرازم کی اقدار کی پاسداری کے تئیں مخلصانہ کوشیشوں کی تعریف کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ ایسے افراد جو بار بار غیر ذمہ دارانہ بیانات دیتے اور بعد میں بے بنیاد وضاحتیں جاری کرتے ہیں، ہر بار سخت کارروائی کا سامنا کریں تاکہ فرقہ واریت کو ہوا نہ ملے ۔مسلم ویلفیئر ایسوسی ایشن نے واضح کیا ہے کہ وہ ہم آہنگی اور بھائی چارے پر مبنی معاشرے کے قیام میں پختہ یقین رکھتی ہے اور اس طرح کے تفرقہ انگیز بیانات کی اجازت نہیں دے گی۔ اعلامیہ میں یہ پیغام بھی شامل ہے کہ برادریوں کے درمیان اتحاد کو برقرار رکھنے کے لیے ذمہ داران کے خلاف مناسب کارروائی ضروری ہے ۔عیاں رہے کہ نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے ایم ایل اے سنگرام جگتاپ نے ایک متنازعہ بیانات نے سیاسی میدان میں ہلچل مچا دی ہے ۔ جگتاپ نے اپنے ایک خطاب کے دوران ہندوؤں سے اپیل کی ہے کہ وہ دیوالی کی خریداری صرف ہندو تاجروں سے کریں تاکہ منافع ہندو افراد کو جائے اور ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہا کہ ہندوؤں پر حملے مساجد سے شروع ہو رہے ہیں۔ جس کے بعدمہاراشٹر میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو بگاڑنے کی کوشش کرنے والے جگتاپ کے خلاف چوطرفہ تنقد کی جارہی ہیں۔ اس ضمن میں سلیم سارنگ نے جگتاپ کے بیان کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس وقت مہاراشٹر کو اتحاد، ہمدردی اور عوامی مفاد کی سیاست کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے یاد دہانی کرائی کہ موسلا دھار بارشوں اور سیلاب نے ہزاروں خاندانوں کو بے گھر کر دیا ہے ، زراعت تباہ ہو چکی ہے اور متاثرہ لوگ خوراک، لباس اور رہائش کے لیے منتظر ہیں؛ ایسے نازک وقت میں سیاسی رہنماؤں کو انتشار پھیلانے کے بجائے امداد اور یکجہتی کے لیے کام کرنا چاہیے ۔