اُٹھو میری دُنیا کے غریبوں کو جگادو
کاخِ امراء کے در و دِیوار ہلا دو
مہاراشٹرا میں بلدیاتی انتخابات کا عمل جاری ہے ۔ انتخابی مہم عروج پر پہونچ چکی ہے ۔ سیاسی جماعتیںر ائے دہندوں کو رجھانے کی جدوجہد میں مصروف ہیں اور ہر ممکن سرگرمی جاری رکھی ہوئی ہیں۔ ویسے تو ہر بات کے انتخابات میں سیاسی جماعتوں کے نئے اتحاد سامنے آتے ہ ہیں۔ سابقہ حلیفوں کو چھوڑ دیا جاتا ہے اور حریفوں کیس اتھ دوستی کی جاتی ہے ۔ ایک دوسرے کی تعریفیں تنقیدوں میں اور تنقیدیں ضرورت میں بدل جاتی ہیںاور اسی کے مطابق اتحاد کئے جاتے ہیں۔ مہاراشٹرا میں جو بلدیاتی انتخابات ہو رہے ہیں وہ انتہائی اہمیت کے حامل سمجھے جا رہے ہیں۔ ریاست کی سیاست پر یہ انتخابات اثر انداز ہوسکتے ہیں۔ مہاراشٹرا میں پارلیمانی انتخابات میں انڈیا اتحادنے شاندار کامیابی حاصل کی تھی اور پھر اسمبلی انتخابات میں مہایوتی اتحاد کو کامیابی ملی تھی ۔ اس طرح اب بلدیاتی انتخابات میں کامیابی سیاسی توازن کا امتحان سمجھی جا رہی ہے ۔ جہاں تک سیاسی جماعتوں کا سوال ہے تو وہ ان انتخابات کو بھی انتہائی اہمیت دے رہی ہیں اور ان میں بھی پورے جارحانہ تیور کے ساتھ اور شدت سے مقابلہ کیا جا رہا ہے ۔ سابقہ حلیفوںکو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے تو سابقہ حریفوں کو ساتھ ملانے سے گریز نہیں کیا جا رہا ہے ۔ نظریاتی اور پالیسیوں کے اختلافات کو بالائے طاق رکھ دیا گیا ہے اور صرف کامیابی کے امکانات کو پیش نظر رکھتے ہوئے اتحاد اور اختلاف کی پالیسی طئے کی جانے لگی ہے ۔ تقریبا تمام سیاسی جماعتوں کی جانب سے اس طرح کے دعوے کئے جا رہے ہیں کہ وہی ایک ہیں جو عوامی کاز کی چمپئن ہیں اور دوسروں کی نیتیں ٹھیک نہیں ہیں ۔ وہ صرف اقتدار یا کامیابی کیلئے انتخابی میدان میں ہیں ۔ عوامی فلاح و بہبود یا بہتری سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے ۔ جہاں تک مہاراشٹرا کے عوام کی بات ہے تو ان کیلئے بھی ریاست کا سیاسی منظرنامہ پیچیدہ ہی دکھائی دے رہا ہے اور وہ یہ طئے کرنے کے موقف میں نظر نہیں آ رہے ہیں کہ کون سی پارٹی کس کے ساتھ ہے ۔ کون کس کی حلیف ہے اور کون کس کی حریف ہے ۔ کسی ایک مقام پر سیاسی جماعتوں میں اتفاق ہے تو دوسرے مقام پر ان میں اختلاف دکھائی دے رہا ہے ۔
رائے دہندوں کو رجھانے کیلئے سیاسی جماعتیں اپنے طور پر بلند بانگ دعوے کرنے سے گریز نہیں کر رہی ہیں۔ کچھ اندیشوں کا اظہار بھی کیا جا رہاہ ے اور کچھ الزامات بھی عائد کئے جا رہے ہیں۔ تاہم تقریبا تمام سیاسی جماعتوں کے تعلق سے کہا جاسکتا ہے کہ وہ کسی ایک کلئیر اور واضح ویژن کے بغیر محض زبانی جمع خرچ کے ذریعہ انتخابات میں مقابلہ کر رہے ہیں ۔ تمام جماعتوں کے جو منشور جاری کئے گئے ہیں ان کا جائزہ لینے سے پتہ چلتا ہے کہ ان کے سامنے محض انتخابی کامیابی اہمیت کی حامل ہے اور وہ عوام کیلئے زیادہ کچھ منصوبے نہیںرکھتے ۔ کچھ عوامی مقبولیت کے اقدامات کا تمام جماعتوں کی جانب سے وعدہ ضرور کیا جا رہا ہے لیکن ان وعدوں کی تکمیل کا کسی کو بھی یقین نہیں ہو رہا ہے ۔ ان جماعتوں کے ماضی کے جو ریکارڈ ہیں وہ ان وعدوں پر یقین کرنے سے روک رہے ہیں ۔ اس صورتحال کو شائد سیاسی جماعتیں بھی محسوس کرنے لگی ہیں اس لئے وہ ان وعدوں سے زیادہ توڑ جوڑ کی پالیسی پر یقین کرنے لگی ہیں۔ کہیں کسی سے اتحاد کیا جا رہا ہے تو کہیں کسی سے اختلاف کیا جا رہا ہے ۔ دو جماعتیں دو مختلف مقامات پر دو مختلف انداز اختیار کر رہی ہیں اور اس کے نتیجہ میں مہاراشٹرا کے عوام الجھن کا شکار ہونے لگے ہیں۔ ممبئی ‘ پونے ‘ احمد نگر ‘ ناگپور اور دوسرے کچھ میونسپل کارپوریشنس کے انتخابات بہت اہمیت کے حامل ہوتے ہیں کیونکہ ان میں کامیابی مہاراشٹرا کی سیاست میں غلبہ فراہم کرتی ہے اور ان ہی کے نتائج پر سب کی نظر رہتی ہے ۔
ممبئی کا جہاں تک تعلق ہے تقریبا تمام سیاسی جماعتوں نے اس پر خاص توجہ مرکوز کی ہوئی ہے تاہم سب سے زیادہ اہمیت کا پہلو یہ ہے کہ ٹھاکرے برداران تقریبا دو دہائیوں کی دوری کے بعد ایک ہوئے ہیں اور وہ متحدہ مقابلہ کر رہے ہیں۔ اسی طرح این سی پی کے دو علیحدہ گروپس میں بھی پونے میں اتحاد نظر آتا ہے ۔ یہ بھی ایک خاندان سے تعلق رکھنے والے دو گروپس ہیں ۔ دو خاندانوں کے اتحاد کے جو نتائج ہونگے وہ اہمیت کے حامل ہونگے اور ان کے مہاراشٹرا کی سیاست پر بھی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ ان نتائج پر مستقبل کی سیاست کا بھی انحصار ہوسکتا ہے اسی لئے عوامی حلقوں میں صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے ۔
