غم کے سینے میں خوشی کی آگ بھرنے دو ہمیں
خوں بھرے پرچم کے نیچے رقص کرنے دو ہمیں
مہاراشٹرا میں بلدیاتی انتخابات کا عمل پایہ تکمیل کو پہونچا ہے ۔ کل رائے دہی کے بعد آج ووٹوں کی گنتی ہوئی اور نتائج کا اعلان بھی کردیا گیا ہے ۔ تقریبا تمام نتائج سامنے آچکے ہیں۔ مہاراشٹرا کے بلدیاتی انتخابات میں بی جے پی نے واضح کامیابی حاصل کرلی ہے ۔ بی جے پی حالانکہ تنہا کسی کارپوریشن پر قابض نہیںہوسکی اور خاص طور پر ملک کی دولت مند ترین بلدیہ برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن پر بی جے پی اتحاد کو کامیابی حاصل ہوئی ہے تاہم یہ بھی واضح ہوگیا ہے کہ بی جے پی نے تنہا یہاں کامیابی حاصل نہیں کی ہے اور شیوسینا شنڈے گروپ کی تائید سے اسے اکثریت حاصل ہوئی ہے ۔ بی جے پی ایک پیچیدہ اور گنجلک انتخابی منظر نامہ میں واحد بڑی جماعت بن کر ابھری ہے تاہم شیوسینا ادھو ٹھاکرے بھی اس سے بہت زیادہ پیچھے نہیں ہے ۔ ممبئی میونسپل کارپوریشن میں جہاں بی جے پی کو 85 نشستیں حیاصل ہوئی ہیں وہیںشیوسینا ادھو ٹھاکرے نے بھی 72 حلقوںسے کامیابی حاصل کی ہے ۔ ایکناتھ شنڈے گروپ کو 29 اور کانگریس کو 19 حلقوں پر جیت حاصل ہوئی ہے ۔ راج ٹھاکرے کی ایم این ایس بھی زیادہ اثر نہیں دکھا سکی ہے اور اسے محض 10 حلقوں سے کامیابی مل پائی ہے ۔ بی جے پی کو ممبئی میونسپل کارپوریشن پر پہلی بار اقتدار ملنے جارہا ہے تاہم اگر گذشتہ انتخابات کے نتائج کا مشاہدہ کیا جائے تو یہ واضح ہوجائے گا کہ ممبئی کے عوام نے ایک بار پھر سے شیوسینا کو برتری دی ہے ۔ شیوسینا کو جس طر ح سے دو حصوں میں بانٹ دیا گیا ہے اس کے نتیجہ میں بی جے پی واحد بڑی جماعت بن کر ابھری ہے اور اسے ممبئی میونسپل کارپوریشن میں اقتدار حاصل ہوا ہے ۔ اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ بی جے پی کی توڑ جوڑ کی سیاست اس کی کامیابی کی وجہ بنی ہے اور اپوزیشن جماعتوں کا بکھراؤ ان کو اقتدار سے دور رکھنے کی وجہ بنا ہے ۔ ایک خاص بات سارے مہارشاٹرا کے انتخابات میں دیکھنے میں آئی ہے کہ پوار خاندان کے اتحاد کے باوجود این سی پی کے دونوں گروپس کوئی بڑی کامیابی درج نہیں کروائے ہیں خاص طور پر پونے اور پمپری ۔ چنچواڑ میں پوار خاندان کا حلقہ اثر گھٹتا ہواد کھائی دیا ہے ۔
بی جے پی نے مہاراشٹرا کی دو جماعتوں شیوسینا اور این سی پی میں جو پھوٹ ڈالی تھی اسی وجہ سے وہ ریاست میں بھی برسر اقتدار ہے اور اسے برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن میں بھی اقتدار ملنے جا رہا ہے ۔ اس سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ بی جے پی کی منفی سیاست اور توڑ جوڑ کی پالیسی اس کے فروغ کی وجہ بنی ہوئی ہے اور وہ متحدہ اور مشترکہ اپوزیشن کو شکست دینے کے موقف میں نہیںتھی ۔ شیوسینا کے دونوں گروپس کی نشستوں کی تعداد کا اگر جائزہ لیا جائے تو پتہ چلے گا کہ شیوسینا ممبئی میں اب بھی سب سے بڑی پارٹی بن کر ہی ابھرتی ۔ یہ بھی ممکن تھا کہ دونوں گروپس کو جتنی نشستیںح اصل ہوئی ہیں متحدہ مقابلہ یا تقسیم کے بغیر اس سے زیادہ نشستیں مل پاتیں۔ تاہم ایکناتھ شنڈے کو جس طرح سے بی جے پی نے اپنے جایل میں پھانس کر شیوسینا میںپھوٹ ڈالی تھی اور انہیں چیف منسٹر بنایا تھا اسی وجہ سے بی جے پی کو بی ایم سی کی جیت حاصل ہو رہی ہے ۔ اس بات سے انکار نہیں ہے کہ مہاراشٹرا کی سیاست میں بی جے پی کا اپنا ایک مضبوط ووٹ بینک ہے اور حلقہ اثر پایا جاتا ہے ۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ بی جے پی تنہا یہاں نہ ریاست میںاقتدار حاصل کرپاتی اور نہ ہی بی ایم سی کا انتخاب جیت پاتی ۔ بی جے پی کو اس حقیقت کا قبل از وقت اندازہ تھا اور وہ کسی بھی قیمت پر مہاراشرا میںاقتدار اور بی ایم سی کی جیت چاہتی تھی اسی لئے بہت پہلے سے اس نے اپنی حکمت عملی تیار کی اور توڑ جوڑ کی پالیسی کو فروغ دیتے ہوئے اپوزیشن کو انتشار کا شکار کیا تھا ۔
جہاں تک اپوزیشن جماعتوں کا سوال ہے تو یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ ان کیلئے آپسی اتحاد اور اشتراک اہمیت کا حامل ہے ۔ وہ تنہا بی جے پی سے مقابلہ کرنے کے موقف میں نہیں ہیں اور نہ ہی بی جے پی کو شکست دینے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ ایک جامع اور مضبوط حکمت عملی کے تحت تمام بی جے پی مخالف جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا جائے تو پھر اسے شکست دینا نا ممکن نہیں ہوتا ۔ بی ایم سی اور مہاراشٹرا میونسپل انتخابات کے نتائج سے اپوزیشن کو یہ پیام ملتا ہے کہ وہ آپس میںاتحاد کو ترجیح دیں اور ایک جامع حکمت عملی تیار کریں تاکہ آئندہ انتخابی میدان میں بی جے پی کو شکست سے دوچار کیا جاسکے ۔