مہاراشٹرا میں بحران

   

Ferty9 Clinic

اپنے اپنے دائرے میں دیکھ لو
حسب طاقت ہر کوئی فرعون ہے
مہاراشٹرا میں برسر اقتدار اتحاد کیلئے مسائل پیدا کردئے گئے ہیں اور ادھو ٹھاکرے کی زیر قیادت مہاوکاس اگھاڑی حکومت کیلئے بحران پیدا کردیا گیا ہے ۔ شیوسینا سے تعلق رکھنے والے ایک وزیر نے اپنے 21 حامی ارکان اسمبلی کے ساتھ مہاراشٹرا سے گجرات سفر کرلیا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ وہ گجرات کے شہر سورت کے ایک ریسارٹ میں مقیم ہیں۔ تاہم بعد میں جو اطلاعات ملی ہیں ان کے مطابق باغی وزیر ایکناتھ شنڈے کے حامی تین ارکان اسمبلی ممبئی واپس پہونچ گئے ہیں اور وہ چیف منسٹر ادھو ٹھاکرے کی قیامگاہ پہونچ گئے ہیں۔ اس طرح شیوسینا کی جانب سے بھی بحران کو کنٹرول کرنے کی کوششوں کا آغاز کردیا گیا ہے ۔ تاہم ایک پہلو انتہائی اہمیت کا حامل ہے کہ کس طرح سے ان باغی ارکان اسمبلی کو بی جے پی کے اقتدار والی ریاست گجرات منتقل کیا گیا ہے ۔ گجرات میں ان کو پناہ فراہم کئے جانے سے یہ واضح ہونے لگا ہے کہ اس بحران کے پس پردہ کون ہے اور اس کے محرکات کیا کچھ ہوسکتے ہیں۔ جو اندیشے ظاہر کئے جا رہے ہیں وہ یہی ہیں کہ بی جے پی کی جانب سے ایک جمہوری منتخبہ حکومت کو زوال کا شکار کرنے کی کوشش شروع کردی گی ہے ۔ ویسے تو جس وقت سے ادھو ٹھاکرے کی قیادت میں یہ اتحادی حکومت قائم ہوئی تھی اسی وقت سے حالات کو بگاڑنے کی کوشش کی جا رہی تھی ۔ اب ایک اہم موقع دیکھتے ہوئے اس کا سیاسی استحصال کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور ان ارکان اسمبلی کو استعمال کرتے ہوئے ادھو ٹھاکرے کی حکومت کو زوال کا شکار کرنے کے منصوبہ پر تیزی کے ساتھ عمل کیا جا رہا ہے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہاں بھی وہی طریقہ اختیار کیا جا رہا ہے جو پہلے کرناٹک میں اور پھر مدھیہ پردیش میںاختیار کیا گیا تھا ۔ یہی طریقہ راجستھان میں اختیار کرنے کی کوشش کی گئی تھی جو کامیاب نہیں ہوسکی ہے اور وہاںکانگریس کی اشوک گہلوٹ حکومت اب اپنی معیاد کی تکمیل کے قریب پہونچ چکی ہے ۔ راجستھان میں آئندہ اسمبلی انتخابات کی تیاریوں کا آغاز بھی سیاسی جماعتوںنے کردیا ہے ۔
مہاراشٹرا اسمبلی کی عددی طاقت 288 ہے اور ایک رکن اسمبلی کے فوت ہوجانے کے بعد یہ تعداد 287 ہوگئی ہے ۔ اس طرح اب ایون میں اکثریت کیلئے 144 ارکان کی تائید ضروری ہے ۔ شیوسینا کی زیر قیادت کانگریس اور این سی پی کی مدد سے بنی مہا وکاس اگھاڑی کی حکومت کو 152 ارکان کی تائید حاصل ہے ۔ شیوسینا کے 55 ارکان اسمبلی ہیں۔ ان میں21 ارکان اسمبلی کے ساتھ ایک آزاد رکن نے بھی بغاوت کردی ہے اور یہ لوگ سورت کے ریسارٹ میں مقیم ہیں۔ اگر ان ارکان امسبلی نے استعفی پیشکردیا تو شیوسینا کی تعداد 34 رہ جائے گی ۔ اس صورت میں شیوسینا کے ارکان کی تعداد گھٹ کر 34 ہو جائے گی ۔ اس کے نتیجہ میں ایوان میں بھی حکومت کے تائیدی ارکان کی تعداد 131 رہ جائے گی جبکہ اکثریت ثابت کرنے کیلئے جملہ 133 ارکان کی تعداد ضروری ہے ۔ بی جے پی کی جانب سے 135 ارکان کی تائید کا دعوی کیا جا رہا ہے جو اکثریت کیلئے درکار تعداد سے زیادہ ہے ۔ تاہم اگر 21 شیوسینا ارکان اسمبلی پارٹی بدلتے ہیں تو انہیںاستعفی پیش کرنا ہوگا اور دوبارہ انتخاب لڑنا ہوگا ۔ یہی وہ طریقہ ہے جو بی جے پی نے کرناٹک میںاقتدار حاصل کرنے اختیار کیا تھا اور کانگریس و جنتادل ایس کے ارکان اسمبلی سے بغاوت کرواتے ہوئے انہیں مستعفی کروایا ۔ ایوان کی عددی طاقت گھٹائی اور پھر پچھلے دروازے سے خود اقتدار پر قبضہ جمالیا تھا ۔
اب مہاراشٹرا میں بھی یہی طریقہ اختیار کیا جا رہا ہے تاہم اسکے کامیاب ہونے کے امکانات بھی صد فیصد نہیںہیں لیکن یہ بات قابل غور ہے کہ کس طرح سے مرکز میں اقتدار کا بیجا استعمال کرتے ہوئے ریاستی حکومتوں کو زوال کا شکار کیا جا رہا ہے ۔ جمہوری عمل کی دھجیاںاڑائی جا رہی ہیں۔ اپوزیشن کو ختم کرنے کے منصوبہ پر عمل کیا جا رہا ہے ۔ ارکان اسمبلی اور پارلیمنٹ کو انحراف کیلئے اکسایا جا رہا ہے ۔ ان کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے اور لالچ دئے جا رہے ہیں۔ اس روایت کے خلاف ملک کے جمہوریت پسند عوام کو آواز بلند کرنے کی ضرورت ہے تاکہ جمہوری منتخبہ حکومتوںکی حفاظت ہوسکے ۔