مہاراشٹرا SIR پر راہول کا ’ووٹ چوری‘ حملہ ، 2.07 کروڑ ووٹرس غائب

,

   

2024ء کے لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات میں اچانک 39 لاکھ نئے ووٹرز جوڑے گئے تھے۔ اپوزیشن لیڈر کا الیکشن کمیشن اور بی جے پی پر سخت وار

نئی دہلی؍ممبئی، یکم ستمبر (ایجنسیز): لوک سبھا میں قائد اپوزیشن راہول گاندھی نے مہاراشٹرا میں خصوصی جامع نظرثانی (SIR) کے بعد جاری کردہ مسودہ انتخابی فہرست میں 2.07 کروڑ ووٹرس کے شامل نہ ہونے پر الیکشن کمیشن اور بی جے پی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ووٹر لسٹ میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں جمہوری عمل کی شفافیت پر سنگین سوالات کھڑے کرتی ہیں۔ راہول گاندھی نے اپنے تازہ ردعمل میں سابقہ انتخابی اعداد و شمار اور موجودہ مسودہ فہرست کے درمیان بڑے فرق کا حوالہ دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ آخر کون سی فہرست درست تھی؟ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مہاراشٹرا میں تقریباً ہر پانچ میں سے ایک رجسٹرڈ ووٹر موجودہ مسودہ فہرست میں نظر نہیں آ رہا ہے۔ مہاراشٹرا کے چیف الیکٹورل آفیسر کے اعداد و شمار کے مطابق SIR سے قبل ریاست میں تقریباً 9.785 کروڑ ووٹرس درج تھے، جن میں سے 7.716 کروڑ کے نام مسودہ انتخابی فہرست میں شامل ہیں۔ اس طرح تقریباً 2.07 کروڑ سابقہ ووٹرس موجودہ مسودہ فہرست میں شامل نہیں ہیں، جو سابقہ ووٹرس کا تقریباً 21.14 فیصد بنتا ہے۔ تاہم یہ وضاحت اہم ہے کہ 2.07 کروڑ ناموں کا مسودہ فہرست میں نہ ہونا حتمی طور پر ووٹ کا حق ختم ہونا نہیں ہے۔ انتخابی عمل ابھی جاری ہے اور دعوے و اعتراضات داخل کرنے کی مہلت موجود ہے۔ الیکشن حکام کے مطابق مسودہ فہرست میں نام شامل نہ ہونے والے اہل شہری مقررہ طریقہ کار کے تحت اپنا نام دوبارہ شامل کرا سکتے ہیں۔ دستیاب سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مسودہ فہرست سے باہر رہنے والے ووٹرس میں مختلف زمروں کے افراد شامل ہیں۔ تقریباً 76.80 لاکھ ووٹرس کے مستقل طور پر منتقل ہونے، 75.52 لاکھ کے غیرحاضر یا ناقابلِ سراغ ہونے، 34.81 لاکھ کے فوت ہونے اور تقریباً 17.63 لاکھ کے پہلے سے کہیں اور درج ہونے یا ڈپلیکیٹ ہونے کی نشاندہی کی گئی ہے۔ تقریباً 2.23 لاکھ دیگر زمرے میں رکھے گئے ہیں۔ اسی پس منظر میں الیکشن حکام کا موقف ہے کہ SIR کا مقصد انتخابی فہرست کو درست اور مستند بنانا ہے، جبکہ سیاسی جماعتیں اس عمل کے اثرات اور شفافیت پر سوال اٹھا رہی ہیں۔ راہول گاندھی نے اپنے تازہ سیاسی حملے میں اپنی سابقہ ’ووٹ چوری‘ مہم کو مہاراشٹرا کے SIR اعداد و شمار سے جوڑ دیا۔ ان کا الزام ہے کہ بی جے پی اور الیکشن کمیشن کی کارروائیوں کا مقصد انتخابی نتائج پر اثرانداز ہونا ہے اور انہوں نے کہا کہ اگر ووٹر فہرست میں اتنی بڑی تبدیلیاں ہوتی ہیں تو انتخابی عمل کی غیر جانب داری پر سوال اٹھنا فطری ہے۔ کانگریس نے بھی ان اعداد و شمار کو راہول گاندھی کے پہلے لگائے گئے الزامات کی تائید قرار دیا ہے، جبکہ بی جے پی کی جانب سے کانگریس کے سیاسی موقف کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔