تل ابیب: غزہ کے علاقے رفح سے 6 یرغمالیوں کی نعشیں ملنے کے بعد اْن کے ارکان خاندان اور متعلقہ گروپس نے اتوار کی رات ملک بھر میں حکومت کے خلاف احتجاج کیا۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق حماس سے اسرائیلی یرغمالیوں کی بازیابی کیلئے متحرک گروپس اور فورمز نے 6 یرغمالیوں کی نعشیں ملنے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیتن یاہو اور ان کی حکومت نے یرغمالیوں کو مرنے کیلئے اکیلا چھوڑ دیا ہے۔ مہلوک یرغمالیوں کے ارکان خاندان کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو میں فورم کے نمائندوں نے کہا کہ صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا۔اس حکومت سے کوئی توقع نہیں رہی۔اس احتجاج سے حماس کے ساتھ معاہدہ کرنے کیلئے اسرائیل پر دباؤ میں زبردست اضافہ ہوگیا ہے ۔احتجاجیوں کا الزام ہے کہ معاہدہ کرنے میں تاخیر کے باعث ان کے ارکان خاندان کی ہلاکت ہوئی ہے ۔گزشتہ روز اسرائیلی فوج نے تصدیق کی ہے کہ رفح کے علاقے میں ایک سرنگ سے 6 یرغمالیوں کی نعشیں ملی ہیں جنھیں فوج پہنچنے سے قبل قتل کردیا گیا۔ ایک یرغمالی خاتون امریکی نژاد ہے۔تل ابیب میں نتین یاہو کے گھر کے قریب احتجاج میں ہزاروں افراد شامل تھے جو علامتی طور پر تابوت ساتھ لائے تھے۔ اسرائیل میں سب سے بڑی لیبر یونین نے بھی پیر کو شیٹ ڈاؤن کا اعلان کیا ہے۔