اقتصادی سروے رپورٹ 2022-23 میں انکشاف۔ حیدرآباد میں رئیل اسٹیٹ کاروبار عروج پر
حیدرآباد۔/2 فروری، ( سیاست نیوز) موجودہ مالیاتی سال 2022-23 کے دوران مہنگائی کے معاملے میں تلنگانہ سارے ملک میں سرِ فہرست ہے۔ اس کے بعد دیگر ریاستیں مغربی بنگال، ہریانہ، مدھیہ پردیش، مہاراشٹرا، آندھرا پردیش، گجرات اور اُتر پردیش کا شمار ہوتا ہے۔ مرکزی حکومت کی جانب سے جاری کردہ اکنامک سروے رپورٹ ( اقتصادی سروے ) میں اس کا انکشاف ہوا ہے۔ سروے میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ مہنگائی کی اصل وجہ ایندھن اور ٹیکسٹائیل کی قیمتیں ہونے کا سروے میں پتہ چلا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ زیادہ تر ریاستوں میں شہری علاقوں کے مقابلے میں دیہی علاقوں میں مہنگائی کی سب سے زیادہ شرح ریکارڈ کی گئی ہے۔ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہونے کا علم ہوا ہے۔ سروے میں بتایا گیا ہے کہ حیدرآباد میٹرو سٹی میں رئیل اسٹیٹ کا کاروبار عروج پر ہے۔ جہاں تک زچگی کے دوران ماؤں کی اموات کا معاملہ ہے تلنگانہ سارے ملک میں تیسرے مقام پر ہے۔ وہیں تلنگانہ کا ان چار ریاستوں میں شمار ہوتا ہے جہاں نل کے ذریعہ گھروں کو صاف پینے کا پانی سربراہ کیا جاتا ہے۔ تلنگانہ میں سال 2021-22 کے دوران مہنگائی 7 فیصد تھی جو بڑھ کر مالیاتی سال2022-23 کے دوران 8.5 فیصد تک پہنچ گئی۔ گذشتہ سال اپریل سے ستمبر تک تلنگانہ ، آندھرا پردیش، کرناٹک اور ٹاملناڈو میں ترکاریوں کی قیمتوں میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ مرکز کے زیر انتظام علاقوں بشمول تلنگانہ ، آندھرا پردیش، ٹاملناڈو، کرناٹک، مدھیہ پردیش، ہریانہ، کیرالا اور آسام نے اس مالیاتی سال میں برقی کی شرحوں میں اضافہ کیا۔ مالیاتی سال 2020-21 کے دوران فیکٹریوں میں کام کرنے والوں کی تعداد کے لحاظ سے ٹاملناڈو، گجرات اور مہاراشٹرا پہلے تین مقامات پر تلنگانہ ساتواں اور آندھراپردیش کو نواں مقام حاصل ہوا ہے۔ صحت عامہ میں تلنگانہ حکومت کا خرچ 40.9 فیصد ریکارڈ ہوا ہے۔ حیدرآباد کے بشمول ملک کے 8 میٹرو شہروں میں مکانات کی قیمتوں میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ ہاوزنگ پرائس انڈیکس (HPI) اسسمنٹ پرائس انڈیکس اور مارکٹ پرائس انڈیکس میں احمد آباد کو پہلا اور حیدرآباد کو دوسرا مقام حاصل ہوا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مکانات کی قیمتیں متعلقہ ریاستوں کے معاشی حالات بتاتی ہیں اور یہ شرح نمو اور اقتصادی استحکام کی عکاسی کرتی ہیں۔ن