میئر اورڈپٹی میئر کے الیکشن کیلئے کورم کی تکمیل ضروری

   


مجلس کی تائید کے بغیر ٹی آر ایس امیدواروں کی کامیابی یقینی، کے سی آر کی حکمت عملی
حیدرآباد: گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے میئر اور ڈپٹی میئر کیلئے انتخاب 10 فروری کے بعد ہوگا اور توقع ہے کہ 11 جنوری کو اسٹیٹ الیکشن کمیشن گزٹ نوٹیفکیشن جاری کردے گا۔ میئر اورڈپٹی میئر کے انتخاب کے سلسلہ میں سیاسی حلقوں میں مختلف قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں۔ ٹی آر ایس کی جانب سے میئر اور ڈپٹی میئر کے عہدوں پر کامیابی کے امکانات اگرچہ واضح ہیں لیکن نشستوں میں کمی کے بعد ٹی آر ایس دونوں عہدوں پر کامیابی کیلئے حکمت عملی کو قطعیت دے رہی ہے۔ 150 رکنی کارپوریشن میں ٹی آر ایس کے ارکان کی تعداد 56 ہے جبکہ گزشتہ کارپوریشن میں ٹی آر ایس کے 99 کارپوریٹرس منتخب ہوئے تھے۔ میئر اور ڈپٹی میئر کے الیکشن کے سلسلہ میں ایوان میں کورم کا ہونا ضروری ہے۔ الیکشن کے دن اگر تمام ٹی آر ایس کارپوریٹرس ایوان میں موجود رہیں اور دیگر جماعتوں کے 10 کارپوریٹرس غیر حاضر ہوجائیں تو میئر اور ڈپٹی میئر کیلئے رائے دہی کرائی جاسکتی ہے ۔ ایسی صورت میں ٹی آر ایس دونوں عہدوں پر اپنے امیدواروں کو بآسانی کامیاب کرپائے گی ۔ ٹی آر ایس کے پاس 30 بااعتبار عہدہ ارکان کے ووٹ موجود ہیں جو ارکان پارلیمنٹ ، ارکان اسمبلی اور ارکان کونسل کی صورت میں رہیں گے ۔ ٹی آر ایس مجموعی طور پر 86 ووٹ کے ذریعہ میئر اور ڈپٹی میئر کو بآسانی منتخب کرسکتی ہے۔ جی ایچ ایم سی ایکٹ کے مطابق کارپوریٹرس اور بااعتبار عہدہ ارکان کی جملہ تعداد 191 میں سے کم از کم 96 ارکان حاضر رہیں تو کوروم مکمل ہوجائے گا۔ قانون کے مطابق اگر پہلے اجلاس میں کورم مکمل نہ ہوں تو دوسری مرتبہ اجلاس طلب کیا جاسکتا ہے ۔ دوسری مرتبہ بھی کورم کی عدم تکمیل کی صورت میں تیسرے اجلاس میں موجود ارکان کی تعداد میئر اور ڈپٹی میئر کا انتخاب کرسکتی ہے۔ ٹی آر ایس کے 56 کارپوریٹرس اور 30 بااعتبار عہدہ ارکان ہے جبکہ مجلس کے 44 کارپوریٹرس اور 10 بااعتبار عہدہ ارکان موجود ہیں۔ بی جے پی کے پاس 48 کارپوریٹرس اور 2 بااعتبار عہدہ ارکان ہیں۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے بی جے پی کے الزامات سے بچنے کیلئے مجلس کی تائید کے بغیر میئر اور ڈپٹی میئر کے عہدوں پر کامیابی کی حکمت عملی تیار کرلی ہے۔