یانگون : میانمار کے شہر ینگون میں باغی جنگجوؤں نے الیکشن کمیشن کے نائب سربراہ کو گولی مارکرہلاک کردیا ۔فوج کی اطلاعاتی ٹیم نیایک بیان میں بتایا ہے کہ یونین الیکشن کمیشن کے ڈپٹی ڈائریکٹر سائی کیوتھوتھو کو ینگون کے مشرق میں واقع علاقے تھنگنگیون میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔بیان میں کہا گیا ہے کہ بغاوت مخالف ‘پیپلز ڈیفنس فورسز’ اس واقعہ کی ذمہ دار ہیں لیکن اس نے مزید تفصیل فراہم نہیں کی۔میانمارکی فوج نے دو سال قبل ایک بغاوت کے ذریعہ اقتدار پر قبضہ کرلیاتھا۔اس نے اختلاف رائے کے خلاف خونیں کریک ڈاؤن کی قیادت کی ہے، جس سے سماجی بدامنی اور معاشی بحران پیدا ہوا ہے۔خود ساختہ سویلین ’’پیپلزڈیفنس فورسز‘‘فوجی جنتا کے خلاف ابھرکر سامنے آئی ہیں۔اس کے جنگجوؤں نے فوج کے ساتھ کام کرنے والے عہدیدارو ں کو نشانہ بنایا ۔فوج نے فروری 2021 میں سویلین رہنما آنگ سان سوچی کی منتخب حکومت کوانتخابات میں دھاندلی کے بے بنیاد الزامات پر برطرف کردیا تھا۔اب اس نے جنتا کے زیرقیادت الیکشن کمیشن کو نئے انتخابات کرانے کی ذمہ داری سونپی ہے، جس کے بارے میں فوج کے مخالفین کا کہنا ہے کہ یہ ممکنہ طور پر آزاد یا منصفانہ نہیں ہو سکتے۔گذشتہ ماہ الیکشن کمیشن نے سوچی کی نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی پارٹی کو فوج کی جانب سے تیار کردہ نئے انتخابی قوانین کے تحت دوبارہ رجسٹریشن کرانے میں ناکامی پر تحلیل کردیا تھا۔