عوام میں خوف، کسانوں کو نقصان، پولٹری صنعت چکن کے استعمال کو بحال رکھنے کوشاں
حیدرآباد۔ 9۔مارچ۔(سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ کے محکمہ افزائش مویشیاں کی جانب سے پولٹری چکن کے متعلق عوام میں پیدا ہونے والے خوف کو دور کرنے کے لئے اقدامات کئے جا رہے ہیں لیکن دوسری جانب ریاست تلنگانہ کے اضلاع میں پولٹری چکن کی اموات کے سبب عوام بالخصوص پولٹری صنعت سے وابستہ افراد میں بے چینی پائی جانے لگی ہے۔ شہر حیدرآباد کے پڑوسی ضلع میدک کے منڈل چنا شنکرم پیٹ میں 10ہزار سے زائد برائلر چکن کے پرندوں کی اموات سے کسان پریشان ہوچکے ہیں اور وہ حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ حکومت پولٹری صنعت سے وابستہ کسانوں کو ہونے والے نقصانات کی پابجائی کے لئے آگے آئے کیونکہ نامعلوم وائرس کے نتیجہ میں مرغیوں کی ہلاکت کے سبب انہیں بھاری نقصانات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ گذشتہ کئی ہفتوں سے ریاست میں برڈ فلو کے نتیجہ میں مرغیوں کی اموات اور ہلاکتوں کے سلسلہ میں اطلاعات موصول ہورہی تھیں لیکن محکمہ افزائش مویشیاں اور دیگر متعلقہ اداروں کی جانب سے چکن کے استعمال کو محفوظ قرار دیتے ہوئے مہم چلائی گئی اور ماہ رمضان کے دوران چکن کے استعمال میں ہونے والے اضافہ کے نتیجہ میں چکن کی قیمتیں معمول کے مطابق ہونے لگی تھیں لیکن اب دوبارہ نامعلوم وائرس کے نتیجہ میں مرغیوں کی ہلاکتوں کا سلسلہ شروع ہوا ہے اور اس سلسلہ کو روکنے کے لئے ویٹنری ڈاکٹرس مشاورت کر رہے ہیں لیکن ان کا بھی کہنا ہے کہ پرندوں کی ہلاکت کی وجوہات کا علم نہیںہوسکا ہے ۔ میدک میں 10 ہزار سے زائد پرندوں کی ہلاکتوں کے بعد چکن کے تاجرین کا کہناہے کہ کسانوں کے پاس پرندوں کی ہلاکتوں کا منفی اثر بازار پر ہورہا ہے اور برائلر چکن فروخت کرنے والی سرکردہ کمپنیوں کی جانب سے تاجرین کو یہ باور کروانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ برائلر میں کوئی بیماری نہیں ہے اور وہ کاروبار کا سلسلہ جاری رکھیں جبکہ کسانوں کے پاس موجود اسٹاک کی ہلاکتوں کی اطلاعات اور ہزاروں مرغیوں کے فوت ہونے کے بعد انہیں دفن کئے جانے کی تصاویر و ویڈیو منظر عام پر آنے اور کسانوں کے بیانات کے بعد عوام میں دوبارہ خوف و ہراس پیدا ہونے لگا ہے ۔ دونوں شہروں میں چکن کا کاروبار کرنے والے تاجرین کا کہنا ہے کہ میدک میں 10 ہزار مرغیوں کے فوت ہونے اور انہیں تلف کرنے کے اقدامات کی اطلاعات کے بعد اس کے اثرات دونوں شہروں میں مرغی کے گوشت کے تاجرین پر مرتب ہوں گے۔3
میدک میں ہوئی پرندوں کی ان ہلاکتوں کے سلسلہ میں کہا جا رہاہے کہ نامعلوم وائر س کے نتیجہ میںکسانوں کی نظروں کے سامنے چند ہی منٹوں میں ہزاروں پرندے جو کے صحتمند تھے اچانک بیمار ہوتے ہوئے فوت ہونے لگ گئے اور چند گھنٹوں میں فوت ہونے والے پرندوں کی تعداد 10 ہزار کو تجاوز کرگئی ۔3