سنگور پراجکٹ سے پانی کی سربراہی متاثر ہونے کا امکان ، 42 کروڑ روپئے منظور
میدک ۔4 نومبر ۔ ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) النینو کے ممکنہ اثرات کے پیش نظر مستقبل میں پینے کے پانی کی قلت سے نمٹنے کے لئے ضلع میدک میں پیشگی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔ ضلع کلکٹر پرتیما سنگھ نے کہا کہ عوام کو پانی کی قلت سے محفوظ رکھنے کے لئے خصوصی ایکشن پلان تیار کیا جارہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ڈسمبر کے بعد سنگور پراجکٹ سے پانی کی سربراہی بند ہونے کا امکان ہے، جس کے پیش نظر ریاستی حکومت نے ضلع میدک کے لئے 42 کروڑ روپے منظور کئے ہیں۔کلکٹر نے حویلی گھن پور منڈل کے موضع سردھنہ میں چیک ڈیم کا مشن بھگیرتا گرڈ کے عہدیداروں اور مقامی عوام کے ہمراہ معائنہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے متبادل آبی سربراہی کے منصوبے کا جائزہ لیتے ہوئے عہدیداروں کو ضروری ہدایات دیں۔ انہوں نے بتایا کہ سردھنہ چیک ڈیم پر خصوصی گرڈ قائم کرتے ہوئے وہاں سے تقریباً ساڑھے تین کلو میٹر طویل پائپ لائن کے ذریعہ جکنّاپیٹ تک پانی پہنچایا جائے گا۔ اس منصوبے کے تحت 33 مواضعات کو روزانہ فی کس 55 لیٹر پینے کا پانی فراہم کرنے کا منصوبہ ہے۔ اس کے علاوہ پوڈچن پلی، کوتہ پلی اور من پور چیک ڈیموں پر بھی گرڈ سسٹم قائم کرتے ہوئے متبادل آبی وسائل دستیاب کرائے جائیں گے۔کلکٹر نے عوام سے اپیل کی کہ النینو کے پیش نظر پانی اور بجلی کا کفایت شعاری سے استعمال کریں اور پانی کے ہر قطرے کو محفوظ رکھیں۔ انہوں نے سرپنچوں کو ہدایت دی کہ مواضعات میں غیر ضروری طور پر استعمال ہونے والے مشن بھگیرتا نلوں کو بند کرتے ہوئے پانی کے ضیاع کو روکنے کے لئے گرام سبھاؤں میں قراردادیں منظور کریں۔ بورویل موٹروں کو مقررہ اوقات میں ہی چلایا جائے اور باقی وقت بند رکھا جائے تاکہ زیرزمین آبی ذخائر محفوظ رہنے کے ساتھ بجلی کی بھی بچت ہوسکے۔انہوں نے متعلقہ عہدیداروں کو ہدایت دی کہ ذخائر آب میں پانی کی سطح اور دستیابی پر مسلسل نظر رکھیں۔ اس موقع پر مشن بھگیرتا گرڈ کے ایگزیکٹیو انجینئر ناگابھوشنم، ای ای سمپت کمار، ڈی ای نریش،حویلی گھنپور منڈل تحصیلدار سندھو رینوکا، برقی محکمہ کے ڈی ای رامیشور سوامی، سردھنہ کی سرپنچ ونودا اور دیگر عہدیدار و مقامی افراد موجود تھے۔