میدک : گذشتہ 90 دن میں 100 غرقاب

   

Ferty9 Clinic


کئی لوگ تالابوں میں مچھلیاں پکڑنے کے دوران فوت
حیدرآباد :۔ سابقہ ضلع میدک میں ذخائر آب گذشتہ تین ماہ میں یکم اکٹوبر سے کم از کم 100 لوگوں کے لیے موت کا کنواں بن گئے ۔ چونکہ گذشتہ مانسون میں اس ضلع میں شدید بارش ہوئی ۔ اس لیے تمام تالاب لبریز ہوگئے ہیں ۔ ان تالابوں میں بڑی تعداد میں وہ لوگ غرقاب ہوگئے جو ان میں مچھلیاں پکڑنے میں سرگرم تھے جب کہ ان میں زیادہ تر اتفاقی طور پر پھسل کر پانی میں گر جانے کے بعد فوت ہوئے ۔ اکٹوبر دسمبر کے دوران میدک ڈسٹرکٹ میں 50 اموات ریکارڈ کی گئیں جب کہ اضلاع سنگاریڈی اور سدی پیٹ میں بالترتیب 36 اور 14 اموات ہوئیں ۔ ایک اوسط حساب سے سابق ضلع میدک میں ہر تالاب میں کم از کم ایک موت ہونے کی اطلاعات ہیں ۔ چونکہ یہ ذخائر آب لبریز ہوگئے تھے اس لیے لوگ اس طرف راغب ہوئے ان میں کئی لوگ جنہیں تالابوں کی گہرائی کے بارے میں معلومات نہیں تھیں اور احتیاطی تدابیر کیے بغیر مچھلیاں پکڑنے کی کوشش کے دوران فوت ہوگئے۔ بعض ایسے واقعات کی بھی اطلاعات ہیں جس میں ماہی گیر حالت نشہ میں پانی میں گئے اور وہ ساحل پر واپس تیر کر آنے کے قابل نہیں تھے ۔ کم از کم ایک درجن ماہی گیر گہرے پانی میں مچھلی کے جالوں میں ان کے پیر پھنس جانے کے بعد غرقاب ہوگئے ۔ ایک حالیہ واقعہ میں ضلع میدک میں ایک تالاب میں دو لوگ جو حالت نشہ میں تھے غرقاب ہوگئے ۔ ان تین مہینوں کے دوران ہونے والی اموات میں کم از کم نصف درجن خود کشی واقعات تھے ۔ حالانکہ میدک ڈسٹرکٹ میں نسبتاً کم ذخائر آب ہیں اور یہ سدی پیٹ اور سنگاریڈی کے مقابل ایک چھوٹا ضلع ہے پھر بھی اس ضلع میں دیگر دو اضلاع سے زیادہ غرقابی کے باعث اموات ہونے کی اطلاعات ہیں ۔ اگرچیکہ حکومت کے کسی محکمہ میں غرقابی اموات کی تفصیلات نہیں رکھی گئی ہیں ۔ تاہم مختلف پولیس اسٹیشن حدود میں ہونے والے واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ گذشتہ تین ماہ میں پہلے کے ضلع میدک میں 100 لوگ غرقاب ہوگئے ۔ زیادہ تر واقعات ایسا معلوم ہوتا ہے کہ لاپرواہی اور غفلت کے باعث ہوئے ہیں ۔۔