اندراماں آتمیہ بھروسہ اسکیم کے خلاف مفاد عامہ کی درخواست، حکومت کو چار ہفتے مہلت
حیدرآباد ۔27۔جنوری (سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت کی اندراماں آتمیہ بھروسہ اسکیم کے خلاف تلنگانہ ہائی کورٹ میں مفاد عامہ کی درخواست دائر کی گئی ہے۔ نارائن پیٹ ضلع سے تعلق رکھنے والے جی سرینواس نے درخواست میں اسکیم پر عمل آوری کے طریقہ کار پر اعتراض جتایا۔ درخواست میں کہا گیا کہ حکومت بے زمین زرعی مزدوروں کو سالانہ 12000 روپئے کی امداد فراہم کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے لیکن میونسپلٹیز کے حدود میں موجود زرعی مزدوروں کو اسکیم میں شامل نہیں کیا گیا ہے۔ ریاست میں 129 میونسپلٹیز کے تحت 8 لاکھ سے زائد زرعی مزدور ہیں اور موجودہ قواعد کے مطابق اسکیم پر عمل آوری سے وہ امدادی رقم سے محروم ہوجائیں گے۔ درخواست گزار کے وکیل سی ایچ پربھاکر نے کہا کہ دیہی علاقوںکے زرعی مزدوروں کو اسکیم کے دائرہ کار میں شامل کرنے بلدی حدود کے مزدوروں کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ دیہی اور شہری علاقوں کے درمیان امتیازی سلوک سپریم کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی ہے۔ ہائی کورٹ نے اسکیم کے قواعد سے اختلاف کرتے ہوئے حکومت کو ہدایت دی کہ اندرون 4 ہفتے میونسپلٹیز کے تحت موجود زرعی مزدوروں کو اندراماں آتمیہ بھروسہ اسکیم کے تحت شامل کیا جائے۔ ہائی کورٹ نے اس سلسلہ میں چیف سکریٹری کو ہدایات جاری کیں۔ تلنگانہ ہائی کورٹ کی ہدایت کے نتیجہ میں شہری علاقوں میں موجود زرعی مزدوروں کو امدادی رقم حاصل ہوگی۔1