پدما ایوارڈس مسئلہ کو پارلیمنٹ میں پیش کریں گے، نلگنڈہ میں بی آر ایس کا دھرنا ناکام، رکن پارلیمنٹ کرن کمار ریڈی کی پریس کانفرنس
حیدرآباد۔/29 جنوری، ( سیاست نیوز) کانگریس رکن پارلیمنٹ سی ایچ کرن کمار ریڈی نے کہا کہ مرکز کی جانب سے پدما ایوارڈس میں تلنگانہ کے ساتھ ناانصافی کے مسئلہ کو پارلیمنٹ میں موضوع بحث بنائیں گے۔ گاندھی بھون میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کرن کمار ریڈی نے کہا کہ وہ زیراوور میں اس مسئلہ کو پیش کرتے ہوئے تلنگانہ کے ساتھ ناانصافیوں کو اجاگر کریں گے۔ انہوں نے مرکزی وزیر بنڈی سنجے کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ بنڈی سنجے مرکزی وزیر کی حیثیت کو بھلا کر کارپوریٹر کی طرح بیان بازی کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پدما ایوارڈس کے بارے میں بنڈی سنجے کا بیان مضحکہ خیز ہے اور انہوں نے نہ صرف غدر بلکہ تلنگانہ عوام کی توہین کی ہے۔ کرن کمار ریڈی نے کہا کہ بی آر ایس قائدین کو حکومت پر تنقید کرنے سے قبل پارٹی سربراہ کے سی آر کو عوام کے درمیان لانا چاہیئے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مرکزی حکومت فنڈس کے معاملہ میں تلنگانہ کو نظرانداز کررہی ہے۔ بہار اور آندھرا پردیش کو مرکزی حکومت فنڈس کی اجرائی میں ترجیح دے رہی ہے اور مرکزی بجٹ میں تلنگانہ کے ساتھ ناانصافی کی گئی ہے۔ کرن کمار ریڈی نے کہا کہ بی جے پی ارکان پارلیمنٹ کو ریاست کی تقسیم کے وقت تلنگانہ سے کئے گئے وعدوں پر لوک سبھا میں اظہار خیال کرنا چاہیئے۔ رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے تلنگانہ سے انصاف کیلئے وزیر اعظم اور مرکزی وزراء سے بارہا نمائندگی کی ہے۔ چیف منسٹر نے عادل آباد میں وزیر اعظم نریندر مودی کو تلنگانہ کے بڑے بھائی کا درجہ دیا تاکہ ریاست کے ساتھ انصاف ہو۔ تلنگانہ میں کانگریس کے 8 اور بی جے پی کے بھی 8 ارکان پارلیمنٹ ہیں لیکن بی جے پی ارکان تلنگانہ سے ناانصافیوں پر خاموش ہیں۔ رکن راجیہ سبھا ڈاکٹر لکشمن نے ریجنل رنگ روڈ پراجکٹ کے خلاف مرکز سے نمائندگی کی ہے۔ چیف منسٹر نے ریجنل رنگ روڈ کیلئے مرکزی وزیر نیتن گڈکری سے نمائندگی کی اور 45 ہزار کروڑ کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ ریجنل رنگ روڈ اور میٹرو پراجکٹ سے حیدرآباد عالمی شہر میں تبدیل ہوجائے گا۔ پدما ایوارڈس کے بارے میں بنڈی سنجے کا بیان غیر ذمہ دارانہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ نلگنڈہ میں بی آر ایس کے دھرنے میں کسانوں نے شرکت نہیں کی۔ مہاراشٹرا سے زیادہ تلنگانہ مرکز کو جی ایس ٹی میں حصہ داری ادا کررہا ہے لیکن مرکز کا تلنگانہ کے ساتھ ناانصافی کا رویہ برقرار ہے۔1