نوٹیفکیشن کی اجرائی، 5.28 کلو میٹر راستہ انڈر گراؤنڈ ہوگا، اعتراضات کیلئے 60 دن کی مہلت
حیدرآباد۔/13 اگسٹ ، ( سیاست نیوز) شمس آباد انٹر نیشنل ایرپورٹ تک تعمیرہونے والی میٹرو لائن کئی خصوصیات کی حامل ہوگی۔ پہلے مرحلے میں تاحال میٹرو لائن تمام ایلویٹیڈ ٹریکس پر تعمیر کی گئی ہے۔ ایرپورٹ کوریڈار اسکائی وے کے ساتھ پہلی مرتبہ کچھ فاصلے پر زیر زمین ( انڈر گراؤنڈ ) تعمیر کرنے کیلئے ایک جامع پراجکٹ رپورٹ ڈی پی آر تیار کیا گیا ہے۔ رائے درگم تا ناگول موجودہ ریلوے راہداری کو ایل بی نگر ، چندرائن گٹہ، مائیلاردیوپلی، جل پلی، پی 7 روڈ، شمس آباد ایرپورٹ تک 33.1 کلو میٹر تک توسیع دینے کیلئے دوسرے مرحلے کی تجویز تیار کی گئی ہے جس میں ناگول تا لکشمی گوڑہ 21.4 کلو میٹر اسکائی وے راستہ رہے گا۔ لکشمی گوڑہ سے P7 روڈ ایرپورٹ کے حدود تک 5.28 کلو میٹر زمینی راستہ (انڈر گراؤنڈ ) ’’ایل گریڈ ‘‘ تجویز کی گئی ہے۔ اس راستہ پر ڈیوائیڈر بہت چوڑا ہے۔ چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے حکام کو مشورہ دیا کہ وہ تعمیری لاگت کو کم کرنے کیلئے زمین پر میٹرو ریل چلانے فزیبلیٹی کا جائزہ لیں۔ ابتدائی مطالعہ کے بعد ڈی پی آر میں زیر زمین ( انڈر گراؤنڈ ) میں تھوڑے فاصلے تک میٹرو لائن تعمیر کرنے کی تجویز تیار کی گئی ہے۔ تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد ایرپورٹ کے احاطے سے ٹرمyنل تک 6.42 کلو میٹر میٹرو انڈر گراؤنڈ تعمیر کی جائے گی۔ یہ شہر حیدرآباد میں میٹرو ریل کیلئے پہلا انڈر گراؤنڈ راستہ ہوگا جس میں تین اسٹیشنس، کارگو، ٹرمینل، ایروسٹی کے علاوہ یہاں ایک ڈپو تعمیر کرنے کی بھی تجویز ہے۔ ناگول سے شمس آباد ایرپورٹ تک جملہ 22 میٹرو اسٹیشنس تعمیر ہونے والے ہیں۔ اوسطاً دیڑھ کلو میٹر کے فاصلے پر ایک اسٹیشن تعمیر ہوگا جن میں چند مستقبل کی ضروریات کیلئے فیوچر اسٹیشنس کے طور پر تجویز کئے گئے۔ ناگول، ایل بی نگر، چندرائن گٹہ، مائیلاردیوپلی علاقوں میں انٹرچینج اسٹیشنس تعمیر ہوں گے۔ حیدرآباد ایرپورٹ میٹرو لمیٹیڈ ( ایچ ایم ایل ) کی جانب سے پہلے تیار کردہ ڈی پی آر کے مطابق ایرپورٹ کے راستہ پر حصول اراضی کیلئے تمام اثاثہ جات کی نشاندہی کرلی گئی ہے۔ ماضی کے تجربات کو دیکھتے ہوئے مرکزی اور ریاستی حکومتوں نے ڈی پی آر کو منظوری دے دی ہے۔ سنٹرل لینڈ ایکویزیشن ایکٹ 2013 کے مطابق حیدرآباد ضلع کلکٹر نے جائیدادوں کے حصول کے سلسلہ میں 3 اگسٹ کو نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔ اعتراضات پیش کرنے کیلئے 60 دن کی مہلت دی گئی ہے۔ اثاثہ جات کی نشاندہی کے لحاظ سے وقتاً فوقتاً مزید نوٹیفکیشن جاری کئے جائیں گے۔2