حالیہ چند برسوں میں ہندوستان میں کسی اور شعبہ میں کوئی تبدیلی آئی ہو یا نہ آئی ہو لیکن یہ حقیقت ہے کہ میڈیا میں بہت بڑی تبدیلی آگئی ہے ۔ میڈیا کے نقطہ نظر کو یکسر تبدیل کرکے رکھ دیا گیا ہے ۔ میڈیا اب غیر جانبدار نہیں رہا بلکہ ایک فریق بن گیا ہے اور ملک کے مذہبی ماحول کو پراگندہ کرنے میں سب سے زیادہ سرگرم رول ادا کر رہا ہے ۔ اکثر و بیشتر دیکھا گیا ہے کہ ملک کو انتہائی اہمیت کے حامل اور حساس نوعیت کے مسائل درپیش ہوتے ہیں لیکن میڈیا کی اس پر کوئی توجہ نہیں ہوتی بلکہ عوام کو درپیش سنگین مسائل سے توجہ ہٹانے کیلئے ہندو ۔ مسلم پروپگنڈہ کا سہارا لیا جاتا ہے ۔ حکومت کی ناکامیوں کو عوام کے سامنے پیش کرنے اور حکومت سے سوال کرنے کی بجائے میڈیا نے خود کو ایک مخصوص رنگ میں رنگ لیا ہے اور وہ حکومت کے تلوے چاٹنے میں زیادہ مصروف ہے ۔ حکومت کا دفاع خود حکومت کے ذمہ داران اتنا نہیںکرپاتے جتنا میڈیا نے اپنے ذمے لے لیا ہے ۔ حکومت سے سوال کرنے کی بجائے اپوزیشن کے وجود پر سوال اٹھایا جا رہا ہے ۔ اپوزیشن کی اہمیت کو افادیت پر سوال پوچھا جا رہا ہے جبکہ میڈیا کا یہ اولین اور بنیادی فریضہ ہے کہ عوام کو پیش آنے والی مشکلات اور مسائل پر حکومت وقت سے سوال کریں۔ اس کی کارکردگی کا جائزہ لیں۔ اس کے پالیسی فیصلوں جو جانچیں اور پرکھیں لیکن ایسا ہو نہیں رہا ہے بلکہ حکومت سے سوال پوچھنے والوں کو ملک دشمن اور غدار قرار دیتے ہوئے ان کی شبیہہ کو متاثر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ حد تو یہ ہے کہ اپنے مطالبات پر احتجاج کرنے والے کسانوں کو خالصتانی تک قرار دیدیا گیا ۔ جس وقت ملک میں کورونا کی پہلی لہر نے اپنا اثر دکھانا شروع کیا تو اس وقت تبلیغی جماعت کے اجتماع کو نشانہ بناتے ہوئے مذہبی منافرت پھیلانے سے گریز نہیں کیا گیا ۔ تبلیغی جماعت کے مولانا سعد کو کورونا پھیلانے کا ذمہ دار قرار دیدیا گیا ۔ اس معاملے کی سماعت کرتے ہوئے خود سپریم کورٹ نے اس احساس کا اظہار کیا ہے کہ تبلیغی جماعت پر میڈیا کے ایک گروہ کی خبریں مذہبی منافرت سے پر تھیں۔ عدالت نے خبرںو کو فرقہ وارانہ نظریہ سے پیش کئے جانے پر تشویش کا اظہار بھی کیا ۔
ویسے تو ابتداء سے فکرمند شہریوں کے گوشوں کی جانب سے اور دانشوروں کی جانب سے ملک کے موجودہ حالات اور میڈیا کے انتہائی غیر ذمہ دارانہ اور جانبدارانہ رول پر تنقیدیں کی جا تی رہی ہیں اور ساتھ ہی حکومت کے فیصلوں کی بھی مخالفت کی جاتی رہی ہے لیکن حالیہ عرصہ میں دیکھا گیا ہے کہ عدالتوں کی جانب سے بھی تشویش کا اظہار کیا جانے لگا ہے ۔ سپریم کورٹ اور اس کے ججس نے حالیہ وقتوں میں کچھ مواقع پر ناقدانہ رائے کا اظہار کیا ہے ۔ میڈیا اور حکومت کے ذمہ داروں کو چاہئے کہ وہ کم از کم عدالتوں کا احترام کرے اور ان کی رائے کو محترم سمجھتے ہوئے اپنی روش میں تبدیلی کریں۔ موجودہ حالات جو ملک بھر میں پائے جاتے ہیں وہ میڈیا کی مرہون منت ہی کہے جاسکتے ہیں کیونکہ میڈیا نے ہر معاملے کو ہندو ۔ مسلم کی عینک سے دیکھنا اور اسی نظریہ سے عوام کو دکھانا شروع کردیا ہے ۔ میڈیا کے چینلس اپنے زر خرید اور غلام اینکرس کے ذریعہ خبریں پیش کرنے کی بجائے ملک کے ماحول میں فرقہ وارانہ منافرت کا زہر گھول رہے ہیں۔ ان چینلوں پر اب کوئی باضابطہ یا اقدار کی پاسداری کرنے والا صحافی نہیں رہ گیا ہے بلکہ زر خرید اور تلوے چاٹنے والے اینکرس رہ گئے ہیں جو ایک مخصوص مضمون میں اپنی مہارت کا ہر روز مظاہرہ کرتے ہوئے ملک کے فرقہ وارانہ ماحول کو پراگندہ کر رہے ہیں۔ آج بھی کچھ چینلس اور سوشیل میڈیا ہے جو حقیقت پر مبنی حالات کی عکاسی کرتے ہوئے اپنی فرض شناسی کا مظاہرہ کر رہا ہے اور اس کو فروغ دیا جانا چاہئے ۔
جہاں تک مرکزی حکومت کا سوال ہے اس نے عدالتوں میں یہ کہتے ہوئے اپنا دامن بچانے کی کوشش کی ہے کہ میڈیا کی آزادی اور چینلس کے مواد پر وہ کوئی تحدیدات عائد نہیں کرسکتی ۔ جبکہ یہی حکومت ہے جو حکومت کے خلاف رائے رکھنے والوں اور حکومت سے سوال پوچھنے والوں کی زبانی بند کرنے کیلئے انہیں غداری اور ملک دشمنی کے سنگین مقدمات میں پھانس کر جیلوں میں بند کر رہی ہے ۔ یہ حکومت کا دوہرا معیار ہے ۔ اب جبکہ ملک کی سب سے بڑی عدالت نے میڈیا کے رول پر ناقدانہ رائے ظاہر کی ہے تو حکومت کو بھی اس کا نوٹ لینا چاہئے اور خود میڈیا کو اپنے رول اور ذمہ داری پر نظرثانی کرنی چاہئے ۔
