خانگی کالجس طلبہ کی فیس کے بارے میں فکرمند
حیدرآباد ۔ 3 ستمبر (سیاست نیوز) تلنگانہ ہائیکورٹ نے ٹی آر آر اور مہاویر میڈیکل کالجس سے ایم بی بی ایس طلبہ کے دوسرے کالجس میں دوبارہ الاٹمنٹ کو روکنے سے انکار کیا اور متعلقہ عہدیداروں کو طلبہ کو مختلف میڈیکل کالجس میں منتقل کرنے کی اجازت دی۔ جسٹس ابھینند کمار شاولی اور جسٹس کے سرتھ پر مشتمل بنچ نے کالجس اور نیشنل میڈیکل کمیشن (این ایم سی) کی جانب سے پیش کئے گئے استدلال کی سماعت کی اور اس مرحلہ میں ان کالجس کو کوئی عبوری راحت دینے سے انکار کردیا۔ تاہم اس نے کہا کہ یہ بیاچ کے کیسیس میں ری الوکیشن عدالت کے فیصلہ پر ہوگا۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بیجا نہ ہوگا کہ این ایم سی نے اس کے میڈیکل اسسمنٹ اینڈ ریٹنگ بورڈ (MARB) کے ذریعہ ان کالجس میں انسپیکشنس کئے اور تعلیمی سال 2021-22ء کیلئے ایم بی بی ایس اور پی جی میڈیکل کورسیس میں دیئے گئے داخلوں کو منسوخ کردیا۔ ان کالجس کی جانب سے این ایم سی اور مرکزی وزارت صحت میں کی گئی اپیلس کو مسترد کیا جاچکا ہے۔ ایم اے آر بی کی جانب سیتین کالجس۔ ٹی آر آر، ایم این آر اور مہاویر کا انسپیکشن کیا گیا اور داخلوں کو منسوخ کرنے کی سفارش کی گئی۔ تاہم ایم این آر کی جانب سے مرکزی حکومت کے پاس داخل کی گئی دوسری اپیل ہنوز زیرالتواء ہے۔ ٹی آر آر اور مہاویر کالجس عدالت سے رجوع ہوئے جبکہ ایم این ار کالج مرکز کے فیصلہ کے بعد شائد اس سلسلہ میں کوئی فیصلہ کرے گا۔ کالوجی نارائن راؤ یونیورسٹی آف ہیلت سائنسیس کے وکیل اے پربھاکر راؤ نے کہا کہ یونیورسٹی نے طلبہ کے دوسرے خانگی میڈیکل کالجس میں دوبارہ الاٹمنٹ کے لئے ایک اعلامیہ پہلے ہی جاری کیا ہے۔ ان شاکی کالجس کے طلبہ نے ان کی پسند کے مطابق کالج کا انتخاب کیا ہے۔ ’’یونیورسٹی کو اب الاٹمنٹس کرنا ہے‘‘۔ ان طلبہ کو قبول کرنے والے خانگی کالجس فیس کے بارے میں فکرمند ہیں کیونکہ طلبہ کی جانب سے انہیں فیس ادا کرنے کا امکان نہیں ہے کیونکہ وہ ڈیبارڈ کالجس کو پہلے ہی فیس ادا کرچکے ہیں۔ ٹی آر آر اور مہاویر کالجس کی نمائندگی کرنے والے ایڈوکیٹس نے یہ کہتے ہوئے این ایم سی اور ایم اے آر بی کے انداز پر تنقید کی کہ پہلے انہوں نے انہیں داخلہ دینے کی اجازت دی اور پھر انہیں منسوخ کردیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’اب، وہی عہدیداروں نے ہمارے کالجس میں انفراسٹرکچر سہولتوں کا معائنہ کیا اور ہمیں آئندہ تعلیمی سال کے لئے داخلے دینے کی اجازت دی‘‘۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایم اے آر بی کی جانب سے منسوخی کا یہ کام کیا گیا جبکہ اسے اس طرح کا کوئی اختیار نہیں ہے۔