میڈیکل نصاب میں شامل نفرت انگیز مواد نکال دیا گیا

,

   

مصنفین کی مسلمانوں سے معذرت خواہی، ایس آئی او اور جمعیت العلماء کی کامیاب مساعی

حیدرآباد: میڈیکل طلبہ کیلئے مائیکرو بیالوجی کی نصاب کتب میں مسلمانوں سے متعلق نفرت انگیز مواد پر مسلم تنظیموں کے احتجاج کے نتیجہ میں کتاب کے ناشر اور مصنفین نے متنازعہ حصوں کو حذف کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس کے علاوہ کتاب کے مصنفین نے مسلمانوں سے غیر مشروط معذرت خواہی کی ہے۔ واضح رہے کہ JAYPEE برادرس میڈیکل پبلیشرس کی جانب سے میڈیکل طلبہ کیلئے مائیکرو بیالوجی پر مبنی کتاب شائع کی گئی جس میں ہندوستان میں کورونا کے پھیلاؤ کے لئے تبلیغی جماعت کو ذمہ دار قرار دیا گیا ۔ کتاب میں اگست 2020 ء تک ملک میں کورونا کی صورتحال پر علحدہ چیاپٹر قائم کیا گیا جس میں تبلیغی جماعت کے نئی دہلی میں واقع نظام الدین مرکز مسجد کو کورونا کا کلسٹر بتایا گیا۔ کتاب میں کہا گیا کہ مارچ 2020 ء کے اوائل میں دہلی کے نظام الدین مرکز میں تبلیغی جماعت کے مذہبی اجتماع کے بعد کورونا دھماکو انداز میں پھوٹ پڑا اور 4000 کیسس منظر عام پر آئے۔ میڈیکل کی نصابی کتب میں کورونا کیلئے مسلم مذہبی جماعت کو نشانہ بنانے پر مسلمانوں میں بے چینی پھیل گئی ۔ جماعت اسلامی کی طلبہ تنظیم ایس آئی او اور جمیعتہ علمائے ہند نے کتاب کے پبلیشرس سے احتجاج درج کرایا ۔ مصنفین ڈاکٹر اے شنکر شاستری اور ڈاکٹر سندھیا بھٹ نے تحریری طورپر معذرت خواہی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کتاب میں شامل مواد سے اگر کسی کے جذبات مجروح ہوئے ہیں تو وہ معذرت خواہ ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ چیاپٹر کا مقصد ملک میں کورونا کے آغاز کی نشاندہی کرنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ کتاب میں کنبھ میلہ کے نتیجہ میں بعض امراض کے پھیلنے کا تذکرہ کیا گیا ہے ۔ ایم بی بی ایس کے نصاب کے دوسرے سال کی حوالہ جاتی کتاب میں قابل اعتراض حصوں پر ایس آئی او نے جے پی پبلیشنگ سے بات چیت کی اور مسلمانوں کی بے چینی سے واقف کرایا ۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں تبلیغی جماعت کے اجتماع کے علاوہ دیگر کئی سماجی اور سیاسی اجتماعات ہوئے لیکن کتاب میں صرف تبلیغی جماعت کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ سپریم کورٹ اور دیگر عدالتوں نے تبلیغی جماعت کے تناظر میں اس طرح کی غلط بیانی کی مذمت کی ہے۔ ایس آئی او نے کتاب سے متنازعہ حصوں کو فوری حذف کرنے کا مطالبہ کیا ۔ ایس آئی او جنوبی مہاراشٹرا کے سکریٹری رافد شہاب نے کہا کہ پبلیشر اور مصنفین دونوں اس معاملہ کیلئے ذمہ دار ہیں۔ انہیں مکمل ایمانداری اور تحقیق کے ساتھ کام کرنا چاہئے ۔ دوسری طرف جمعیتہ علماء کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی کی ہدایت پر مولانا حکیم الدین قاسمی سکریٹری کی قیادت میں وفد نے دہلی میں جے پی برادرس پبلیشنگ ہاؤس پہنچ کر ذمہ داروں سے ملاقات کی ۔ وہاں موجود ذمہ داروں پرمود سنگھ اور انکور جین نے علماء کے وفد سے وضاحت کی کہ نئی اشاعت میں متنازعہ حصوں کو حذف کردیا گیا ہے ۔ انہوں نے نئی شائع شدہ کتاب حوالے کی جس میں تبلیغی جماعت سے متعلق متنازعہ مواد شامل نہیں ہے۔ جمعیت علماء کے وفد نے مسلمانوں میں بے چینی دور کرنے کیلئے تحریری طورپر معذرت خواہی کا مطالبہ کیا ۔