اضلاع کے بعد حیدرآباد کے نواحی علاقوں میں بھی بی آر ایس کے خلاف بغاوت
حیدرآباد۔21جنوری(سیاست نیوز) ریاست تلنگانہ میں اقتدار کی تبدیلی کے بعد سے بلدیات اور ادارہ جات مقامی میں صدورنشین و مئیر کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا اضلاع میں جاری سلسلہ اب شہر کے نواحی علاقوں تک پہنچ چکا ہے اور ضلع میڑچل۔ملکا جگری کے حدود میں موجود مجلس بلدیہ جواہر نگر کی مئیر کے خلاف 17ارکین بلدیہ (کارپوریٹرس) نے تحریک عدم اعتماد پیش کرتے ہوئے انہیں عہدہ سے ہٹانے کی تیاریاں شروع کردی ہیں۔ ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق مجلس بلدیہ جواہر نگر کے 17منتخبہ کارپوریٹرس نے ضلع کلکٹر میڑچل ۔ملکاجگری سے ملاقات کرتے ہوئے مئیر محترمہ ایم کاویا کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے۔28 ارکان بلدیہ پر مشتمل جواہر نگر میونسپل کارپوریشن کے 17 اراکین بلدیہ کی جانب سے ضلع کلکٹر کو عدم اعتماد سے متعلق مکتوب حوالہ کرنے پر کہا جا رہاہے کہ اب مئیر کی ان کے عہدہ پر برقراری کے امکانات موہوم ہوچکے ہیں اور جلد ہی بلدیہ کا اجلاس طلب کرتے ہوئے مئیر بلدیہ جواہر نگر محترمہ ایم کاویا کو اپنی عددی طاقت پیش کرنے کے لئے کہا جاسکتا ہے۔ضلع کلکٹریٹ کے ذرائع کے مطابق ضلع کلکٹر نے اراکین بلدیہ کی جانب سے پیش کی گئی درخواست اور مئیر کی کارکردگی پر اٹھائے گئے سوالات کا مشاہدہ کرلیا ہے اور آئندہ دو یوم کے دوران میونسپل کارپوریشن جواہر نگر کا اجلاس منعقد کرنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں اور اگر اس اجلاس کے دوران مئیر اراکین بلدیہ کے اعتماد سے محروم قرار دی جاتی ہیں تو ایسی صورت میں انہیں اپنے عہدہ سے مستعفی ہونا پڑے گا ۔ریاست میں بی آر ایس کے اقتدار کے محروم ہونے کے بعد سے کئی بلدی اداروں کے صدورنشین کو تحریک عدم اعتماد پیش کرتے ہوئے ان کے عہدوں سے محروم کردیا گیا ہے اور ان عہدوں پر برسراقتدار کانگریس نے قبضہ کرنے میں کامیابی حاصل کی اور اب جواہر نگر بلدیہ کے مئیر کے خلاف تحریک پیش کی گئی ہے۔3