میڑچل کو باغبانی کے مرکز میں تبدیل کرنے کی تجویز،کاشتکاروں کو میوہ جات اور ترکاریوں کی پیداوار کا مشورہ

   

Ferty9 Clinic

حیدرآباد۔حیدرآباد کے پڑوسی ضلع میڑچل کو تلنگانہ حکومت کے محکمہ زراعت کی جانب سے باغبانی کے مرکز کے طو رپر فروغ دینے کے اقدامات کئے جارہے ہیں اور کاشتکاروں کو میوہ جات اور ترکاریوں کی پیداوار پر توجہ دینے کی تاکید کی جا رہی ہے اور انہیں اس جانب راغب کرتے ہوئے حوصلہ افزائی کی کوشش کی جا رہی ہے۔میڑچل ضلع کے منڈل میڑچل‘ گھٹکیسر‘ مدو چنا پلی‘ کیسرا‘ اور دیگر علاقوں سے روزانہ کے اساس پر سینکڑوں کنٹل ترکاریاں حیدرآباد لائی جا رہی ہیں۔ محکمہ زراعت کی جانب سے ترکاریوں کے ساتھ ساتھ کاشتکاروں کو آم‘ انار‘ انگور‘سنگترہ‘ اور جام کی پیداوار پرتوجہ دینے کا مشورہ دیا جا رہاہے اور کہاجار ہاہے کہ کاشتکاروں کی جانب سے رضامندی کی صورت میں محکمہ زراعت ان کی رہنمائی اور مدد کے ساتھ ساتھ میوہ جات کی پیداوار کو یقینی بنانے کے اقدامات کا بھی منصوبہ رکھتا ہے۔ ریاستی حکومت کی جانب سے مختلف اضلاع میں مختلف اشیاء کی کاشت کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے اور پہلے سے جن اضلاع میں کسان اناج اور دیگر اشیاء پیدا کر تے ہیں ان اضلاع میںدیگر اشیاء کی پیداوار کو یقینی بنانے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ شہر حیدرآباد میں پڑوسی اضلاع بالخصوص محبوب نگر‘ میڑچل کے علاوہ رنگاریڈی کے مختلف منڈلوں سے ترکاریاں روزانہ پہنچتی ہیں لیکن حالیہ عرصہ میں میڑچل سے کافی زیادہ مقدار میں ترکاری شہر پہنچنے لگی ہے اور میڑچل میں ہونے والی اس پیداوار کو دیکھتے ہوئے محکمہ زراعت کی جانب سے میڑچل میں باغبانی کے فروغ کے ساتھ انگور ‘ آم‘ انار‘ سنگترہ ‘ لیمو کے علاوہ دیگر باغات لگائے جانے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے تاکہ موسمی پھل کی پیداوار کو فروغ دیا جاسکے ۔