روایتی تعلیم کے بجائے تجرباتی تعلیم کو ترجیح ، ریاستی وزیر وینکٹ ریڈی کا اسکول کی افتتاحی تقریب سے خطاب
نلگنڈہ۔ 27 جنوری ۔ ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) اگر مجھے ریاستی وزیر تعلیم کے طور پر موقع ملا تو یقینی طور پر کارپوریٹ اسکولوں کو بند کر دوں گا۔یہ بات ریاستی وزیر عمارت و شوارع و سینماٹوگرافی کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی نے آج نلگنڈہ میں بٹو گوڑہ کومٹ ریڈی پرتیک پرائمری و ہائی اسکول کا افتتاح کے موقع پر دلچسپ تبصرہ کیا اور کہاکہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ چیف منسٹر ریونت ریڈی کوڑنگل کے لئے کتنا فنڈ لیں گے وہ تمام فنڈز کو نلگنڈہ لائیں گے۔ہم پہلے ہی 2ہزار کروڑ سے ترقیاتی کاموں کو انجام دے رہے ہیں ہمارا مقصد نلگنڈہ کو میگا اسمارٹ سٹی بنانا ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ دور کی روایتی تعلیم نمبروں رینکس اور امتحانات تک محدود ہوچکی ہے جس کے باعث بچوں کی فطری سوچ تخلیقی صلاحیت اور تجسس بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ریاستی وزیر نے کہا کہ آج تعلیم ایک خوشگوار سفر کے بجائے شدید مقابلہ بن گئی ہے جو بچوں کی ذہنی اور جذباتی نشوونما کے لیے نقصان دہ ہے۔ اسی صورتحال کو بدلنے کے عزم کے ساتھ بٹو گوڑہ ہائی اسکول میں والڈورف تعلیمی فلسفہ سے متاثر ایک متوازن تعلیمی ماڈل اختیار کیا گیا ہے۔انہوں نے وضاحت کی کہ والڈورف نظام کے مطابق بچے کی نشوونما تین بنیادوں پر ہونی چاہیے سوچنا، محسوس کرنا اور عملی طور پر کرنا۔ اسی نظریے کے تحت اسکول میں تجرباتی تعلیم کو ترجیح دی جا رہی ہے تاکہ بچے کتابی علم کے ساتھ ساتھ عملی زندگی کے لیے بھی تیار ہوسکیں۔ وزیر موصوف کے مطابق باغبانی کے ذریعہ بچوں میں صبر، ذمہ داری اور فطرت سے قربت پیدا کی جاسکتی ہے جبکہ مٹی کے برتن بنانے ، پتھر کی تراش خراش اور ریت سے کھیلنے جیسی سرگرمیوں کے ذریعہ تخلیقی صلاحیت اور ہاتھ و دماغ کے ربط کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔ رقص اور یوگا کے ذریعہ جسم اور ذہن کے درمیان توازن قائم کیا جا رہا ہے جبکہ انڈور گیمز سے سماجی اور جذباتی صلاحیتوں کو مضبوط بنایا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اسکول میں جدید تقاضوں کو بھی پوری طرح ملحوظ رکھا گیا ہے۔ یہاں ڈیجیٹل کلاس رومس جدید کمپیوٹر لیب STEM تعلیم معیاری لائبریری اسپورٹس روم لفٹ کی سہولت اور اسمارٹ لرننگ ٹولز فراہم کیے گئے ہیں تاکہ طلبہ جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ ہو سکیں۔ ریاستی وزیر نے واضح کیا کہ نصاب میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی بلکہ نصاب پڑھانے کے طریقہ کار کو بامعنی تخلیقی اور عملی بنایا گیا ہے۔بعد ازاں ریاستی وزیر کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی نے ضلع گورنمنٹ ہیڈ کواٹر اسپتال نلگنڈہ کے نازک نگہداشت شعبہ میں ہیلتھ اے ٹی ایم پرائم ٹائم اور ای سی جی مشین کا افتتاح کیا۔ اس پر تقریباً 30 لاکھ روپئے کی لاگت آئی ہے۔ریاستی وزیر نے بتایا کہ اس ہیلتھ اے ٹی ایم کے ذریعہ محض 1000 روپئے میں ای سی جی، بلڈ پریشربلڈ شوگر نبض جسمانی درجہ حرارت اور آکسیجن سیچوریشن جیسے بنیادی طبی معائنے چند منٹوں میں ممکن ہوں گے۔ ٹیسٹ کے نتائج فوری طور پر ڈیجیٹل شکل میں دستیاب ہوں گے جس سے ڈاکٹروں کو بروقت اور درست علاج تجویز کرنے میں سہولت ملے گی۔ ریاستی وزیر نے مزید کہا کہ پرائم ٹائم مشن احتیاطی صحت کی دیکھ بھال کو مضبوط بنائے گا جبکہ ای سی جی مشن دل کی بیماریوں کی ابتدائی مرحلے میں نشاندہی میں اہم کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت آئندہ دنوں میں مزید علاقوں میں اسی طرز کے ہیلتھ اے ٹی ایم قائم کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ دیہی اور شہری علاقوں میں جدید تشخیصی سہولیات کی دستیابی سے غریب اور متوسط طبقہ کو مہنگے نجی اسپتالوں کا رخ کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔اس موقع پر ضلع کلکٹر بی چندر شیکھر ایڈیشنل کلکٹر جے سرینواس ایم ایل سی شنکر نائک ضلع ایس پی سرت چندرا پوار صدر نشین لائبریری محمد عبدالحفیظ خان لوکل باڈیز انچارج کلکٹر وائی اشوک ریڈی اسپتال سپرنٹنڈنٹ نیتا نرسمہا راؤ کے علاوہ عوامی نمائندوں میڈیکل آفیسرس ضلعی عہدیدار اور ہیلتھ اسٹاف کی بڑی تعداد موجود تھی۔